2019 October 16
کیا آئمہ معصومین (ع) سے آخر الزمان کے لوگوں کی مدح و تعریف میں کوئی روایت نقل ہوئی ہے ؟
مندرجات: ١٧٩٧ تاریخ اشاعت: ٠٢ May ٢٠١٩ - ١٨:١٥ مشاہدات: 137
سوال و جواب » Mahdism
جدید
کیا آئمہ معصومین (ع) سے آخر الزمان کے لوگوں کی مدح و تعریف میں کوئی روایت نقل ہوئی ہے ؟

 

سوال:

کیا آئمہ معصومین (ع) سے آخر الزمان کے لوگوں کی مدح و تعریف میں کوئی روایت نقل ہوئی ہے ؟

توضيح سؤال :

کیا کوئی حدیث یا روایت موجود ہے کہ جو بیان کرے کہ آخر الزمان کے لوگ رسول خدا (ص) اور آئمہ معصومین (ع) کے زمانے کے لوگوں سے برتر اور بہتر ہیں ؟ یعنی کسی پیغمبر، امام اور انکے معجزات کو دیکھے بغیر اور آخر الزمان کے نئے نئے فتنوں کی وجہ سے کیا خداوند نے آخر الزمان کے مؤمنین کو کوئی خاص وعدہ دیا ہے ؟

کیا یہ امید کی جا سکتی ہے کہ گذشتہ زمانے کے لوگوں کی عبادت کے باوجود آخر الزمان کے لوگ بہتر اور برتر ہوں ؟

جواب:

سوال کے بارے میں چند روایات قابل ذکر اور قابل توجہ ہیں:

آخر الزمان کے لوگوں کی مدح میں روایات:

عجیب ترین اور بزرگ ترین لوگ:

قَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه و آله و سلّم يَا عَلِيُّ أَعْجَبُ النَّاسِ إِيمَاناً وَ أَعْظَمُهُمْ ثَوَاباً قَوْمٌ يَكُونُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ لَمْ يَلْحَقُوا النَّبِيَّ وَ حُجِبَ عَنْهُمُ الْحُجَّةُ فَآمَنُوا بِسَوَادٍ عَلَي بَيَاض۔

يا عليّ ! یقین کے لحاظ سے عجيب ترين وہ لوگ ہیں کہ جو آخر الزمان میں ہوں گے، کیونکہ انھوں نے رسول خدا دیکھا نہیں اور حجت (امام زمان) بھی ان سے غائب ہے، لیکن اسکے باوجود انھوں نے صرف سفیدی پر سیاہی (روایات معصومین) پر ایمان لایا ہے۔

من لا يحضره الفقيه ، شيخ صدوق(381 هق ) ، ج 4 ، ص 366 .

آخر الزمان میں برادران رسول خدا (ص):

عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلّم ذَاتَ يَوْمٍ وَ عِنْدَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اللَّهُمَّ لَقِّنِي إِخْوَانِي مَرَّتَيْنِ فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ أمَا نَحْنُ إِخْوَانُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَا إِنَّكُمْ أَصْحَابِي وَ إِخْوَانِي قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ آمَنُوا وَ لَمْ يَرَوْنِي لَقَدْ عَرَّفَنِيهِمُ اللَّهُ بِأَسْمَائِهِمْ وَ أَسْمَاءِ آبَائِهِمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُخْرِجَهُمْ مِنْ أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَ أَرْحَامِ أُمَّهَاتِهِمْ لَأَحَدُهُمْ أَشَدُّ بَقِيَّةً عَلَي دِينِهِ مِنْ خَرْطِ الْقَتَادِ فِي اللَّيْلَةِ الظَّلْمَاءِ أَوْ كَالْقَابِضِ عَلَي جَمْرِ الْغَضَا أُولَئِكَ مَصَابِيحُ الدُّجَي يُنْجِيهِمُ اللَّهُ مِنْ كُلِّ فِتْنَةٍ غَبْرَاءَ مُظْلِمَة،

ابو بصير نے امام محمد باقر (ع) سے روايت کی ہے کہ پيغمبر اكرم (ص) نے ایک دن دو مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا: خدایا میرے بھائیوں سے میری ملاقات کروا، اصحاب سے نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا ہم آپکے بھائی نہیں ہیں ؟ فرمایا: نہیں، تم میرے اصحاب ہو، میرے بھائی وہ ہیں جو آخر الزمان میں ہوں گے، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہیں ہے۔ خداوند نے ان سب کی انکے ناموں اور انکے والد کے ناموں کے ساتھ اسکے سے پہلے وہ اپنے والد کے صلب سے اور اپنی ماں کی رحم سے باہر آئیں، مجھے انکی شناخت کرائی ہے۔ ان میں سے ایک کا بھی اپنے دین پر ثابت قدم رہنا، کانٹوں سے بھرے ہوئے درخت سے تاریک رات میں اپنے ہاتھ سے کانٹے اتارنے سے زیادہ دشوار کام ہے، یا یہ بندہ اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے غضا کے درخت کی لکڑی کے جلتے انگارے کو اپنے ہاتھ پر رکھا ہو۔ ایسے لوگ تاریک راتوں میں جلتے چراغوں کی طرح ہیں، خداوند انکو ہر ظلمانی فتنے سے نجات دے گا۔

بحار الأنوار ، علامه مجلسي ، ج 52 ، ص 124.

آخر الزمان کے لوگ غور و فکر کرنے والے ہیں:

روایت میں ہے کہ آخر الزمان کے لوگ بہت عقلمند اور غور و فکر کرنے والے ہوں گے:

سُئِلَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليه السلام عَنِ التَّوْحِيدِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ عَلِمَ أَنَّهُ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ مُتَعَمِّقُونَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَي قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ الْآيَاتِ مِنْ سُورَةِ الْحَدِيدِ إِلَي قَوْلِهِ وَ هُوَ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ فَمَنْ رَامَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَك،

امام سجاد (ع) سے جب توحید کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: خداوند کے علم میں تھا کہ آخر الزمان میں ایسے لوگ آئیں گے کہ جو انتہائی عقلمند ہوں گے، اسی وجہ سے خداوند نے سوره «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» اور سوره حديد کی پہلی پانچ آیات «وَ هُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» نازل کی ہیں، پس جو بھی خدا کی معرفت کو ان آیات کے علاوہ طلب کرے گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔

توحيد صدوق، ص 283، باب40، باب أدني ما يجزئ من معرفة التوحيد

آخر الزمان میں رافضہ:

حدّثنا الحسن بن عليّ بن محمّد بن عليّ بن موسي عن عليّ بن موسي بن جعفر عن أبيه عن جعفر بن محمّد قال: حدّثني أبي محمّد بن عليّ قال: حدّثني أبي عليّ بن الحسين قال: حدّثني أبي الحسين بن عليّ؟ قال: قال أمير المؤمنين عليه السّلام: قال لي رسول اللّه صلّي اللّه عليه و آله: رأيت ليلة أسري بي إلي السّماء قصورا من ياقوت أحمر و زبرجد أخضر و درّ و مرجان و عقيقا، بلاطها المسك الأذفر و ترابها الزّعفران، و فاكهة و نخل و رمّان، و حور و خيرات حسان، و أنهار من لبن و أنهار من عسل تجري علي الدّرّ و الجوهر،و قباب علي حافّتي تلك، و غرف و خيام و خدم و ولدان، و فرشها الإستبرق و السّندس و الحرير و فيها أطناب، قلت: يا حبيبي جبرئيل لمن هذا القصور و ما شأنها؟ فقال لي جبرئيل: فهذه القصور و ما فيها خلقها اللّه و حملها أضعافا مضاعفة لشيعة أخيك عليّ و خليفتك بعدك علي أمّتك، و هم يدعون في آخر الزّمان باسم يوذيه غيرهم، يسمّون الرّافضة، و إنّما هو زين لهم، لأنّهم رفضوا الباطل و تمسّكوا بالحقّ، و هم السّواد الأعظم، و لشيعة ابنه الحسن من بعده، و لشيعة أخيه الحسين من بعده، و لشيعة ابنه عليّ بن الحسين من بعده، و لشيعة ابنه محمّد بن عليّ من بعده، و لشيعة ابنه جعفر بن محمّد من بعده، و لشيعة ابنه موسي ابن جعفر من بعده، و لشيعة عليّ بن موسي من بعده، و لشيعة ابنه محمّد بن عليّ من بعده، و لشيعة ابنه عليّ بن محمّد من بعده و لشيعة ابنه الحسن بن عليّ من بعده، و لشيعة ابنه محمّد المهديّ من بعده، يا محمّد فهؤلاء الأئمّة من بعدك أعلام الهدي و مصابيح الدّجي، شيعتهم جميع ولدك و محبّيهم شيعة الحقّ و موالي اللّه و موالي رسوله، رفضوا الباطل و اجتنبوه، و قصدوا الحقّ و اتّبعوه، يتولّونهم في حياتهم و يزورونهم من بعد وفاتهم، متناصرين لهم قاصدين علي محبّتهم، رحمة اللّه عليه إنّه غفور رحيم .

حسن ابن علی نے حضرت علی ابن موسی الرضا (ع) سے، انھوں نے اپنے والد گرامی سے، انھوں نے حضرت صادق (ع) سے، انھوں نے اپنے والد گرامی محمد ابن علی سے، انھوں نے اپنے والد گرامی علی ابن الحسين سے، انھوں نے اپنے والد گرامی حسين ابن علی سے انھوں نے امير المؤمنين عليہم السّلام سے حديث نقل کی ہے کہ رسول خدا نے مجھ سے فرمایا: جس رات مجھے آسمانوں پر لے جایا گیا، وہاں میں نے ایسے محل دیکھے کہ جو سرخ یاقوت، سبز زبرجد، موتیوں، مرجان اور خالص سونے سے بنے ہوئے تھے، انکی مٹی مشک کی خوشبو اور اسکی خاک زعفران کی ہے۔ ان محلوں میں پھل، کھجور و انار کے درخت ہیں، وہاں حوریں اور خوبصورت عورتیں ہیں، دودھ و شہد کی نہریں موتیوں اور جواہرات پر بہہ رہی ہیں، ان دو نہروں کے ساتھ، کمرے بنے ہوئے تھے کہ ان میں خدمتکار اور جوان لڑکے تھے اور وہاں کی قالینیں استبرق، سندس اور ریشم کی بنی تھیں۔ میں نے کہا: اے جبرائیل یہ محل کن کے لیے ہیں ؟ اور انکا ماجرا کیا ہے ؟ جبرائیل نے جواب دیا: یہ سارے محل اور جو کچھ ان میں ہے اور اس سے بھی کئی گنا زیادہ شیعیان اور آپکے بھائی اور جانشین علی کا ہے اور انکو آخر الزمان میں ایسے نام سے پکاریا جائے گا کہ جس نام سے دوسروں کو اذیت و آزار ہوتا ہے، انکو رافضہ کہا جاتا ہے، حالانکہ یہ نام انکے لیے باعث زینت ہے، کیونکہ انھوں نے باطل کو ترک کیا ہے اور حق کو اپنایا ہے اور یہ لوگ کثرت سے موجود ہیں اور یہ لوگ تیرے بیٹے حسن کے مخصوص شیعہ ہیں اور شیعیان کے لیے اسکے بعد اسکا بھائی، حسین ہے، پھر اسی طرح آخر تک ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور شیعیان کے لیے امام حسن عسکری کے بیٹے، محمد المھدی ہیں، اے محمد (ص) یہ آپکے بعد آنے والے امام ہیں کہ جو ہدایت کی علامات اور تاریکی میں روشن چراغ ہیں، اسکے شیعیان تیرے سارے بیٹے ہیں اور انکے محبین، حق کی پیروی کرنے والے اور خدا و رسول سے محبت کرنے والے ہیں کہ جہنوں نے باطل کو ترک کیا اور حق کا ساتھ دیا اور اسکی پیروی کی ہے، وہ آئمہ کی زندگی میں ان سے محبت کرتے ہیں اور انکی وفات کے بعد، انکی زیارت کرتے ہیں۔

دلائل الامامة ، محمد بن جرير الطبري ( الشيعي) ، ص 476.

البتہ اسطرح کی روایات ایسے شیعیان کے لیے تشویق ہے کہ غیبت کے دور میں، جنکے اعمال و کردار اہل بیت کے فرامین کے مطابق ہیں اور وہ انکے اوامر کی اطاعت کرنے والے ہیں، یعنی ایسا نہ ہو کہ اس طرح کی روایات شیعیان کے لیے باعث عجب و غرور بن جائیں۔

آخر الزمان کے لوگوں کی مذمت میں روایات:

اسکے علاوہ بعض دوسری روایات میں آخر الزمان کے بعض لوگوں کی مذمت کی گئی ہے کہ واضح ہے کہ یہ ایسے افراد ہیں کہ جو اہل بیت کے فرامین پر عمل نہیں کرتے، جیسے یہ روایات:

دنیا پرستوں کا مسجد میں بیٹھنا:

وَ قَالَ صلي الله عليه و آله و سلّم يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ الْمَسَاجِدَ يَقْعُدُونَ فِيهَا حَلَقاً ذِكْرُهُمُ الدُّنْيَا وَ حُبُّ الدُّنْيَا لَا تُجَالِسُوهُمْ فَلَيْسَ لِلَّهِ بِهِمْ حَاجَة،

آخر الزمان میں ایسے لوگ آئیں گے کہ جو مسجد میں گروہ کی صورت میں بیٹھ کر دنیا اور دنیا سے محبت کی باتیں کریں گے، تم ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھنا کہ خداوند کو ان لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

بحار الأنوار ، علامه مجلسي ، ج 22 ، ص 454 به بعد.

آخر الزمان کے لوگوں کے لیے تین عذاب:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلّم سَيَأْتِي زَمَانٌ عَلَي أُمَّتِي يَفِرُّونَ مِنَ الْعُلَمَاءِ كَمَا يَفِرُّ الْغَنَمُ عَنِ الذِّئْبِ فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ ابْتَلَاهُمُ اللَّهُ تَعَالَي بِثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ الْأَوَّلُ يَرْفَعُ الْبَرَكَةَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَ الثَّانِي سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ سُلْطَاناً جَائِراً وَ الثَّالِثُ يَخْرُجُونَ مِنَ الدُّنْيَا بِلَا إِيمَانٍ،

رسول خدا (ص) نے فرمایا: عنقریب میری امت پر ایسا وقت آئے گا کہ لوگ علماء سے دور بھاگیں گے، جیسے بھیڑیں بھیڑیے سے فرار کرتی ہیں، اس وقت خداوند ان لوگوں کو تین چیزوں کے ساتھ عذاب کرے گا: ایک: انکے مال میں برکت ختم ہو جائے گی، دو: ظالم حاکم ان پر مسلط ہو جائے گا، تین: بے ایمان ہو کر دنیا سے جائیں گے۔

بحار الأنوار ، علامه مجلسي ، ج 22 ، ص 454 به بعد.

آخر الزمان میں دینداری:

عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلي الله عليه و آله و سلّم أَنَّهُ قَالَ يَأْتِي عَلَي النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ مِنْهُمْ عَلَي دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَي الْجَمْرَةِ،

رسول خدا نے فرمایا: اے ابن مسعود لوگوں پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ اپنے دین پر صبر کرنے والا ایسے ہو گا کہ جیسے اس نے جلتا ہوا انگارہ ہاتھ میں پکڑا ہوا ہو گا۔

بحار الأنوار ، علامه مجلسي ، ج 22 ، ص 454 به بعد.

ایسے لوگوں کے گروہ سے فرار کرنا:

وَ قَالَ صلي الله عليه و آله و سلّم يَأْتِي عَلَي النَّاسِ زَمَانٌ أُمَرَاؤُهُمْ يَكُونُونَ عَلَي الْجَوْرِ وَ عُلَمَاؤُهُمْ عَلَي الطَّمَعِ وَ عُبَّادُهُمْ عَلَي الرِّيَاءِ وَ تُجَّارُهُمْ عَلَي أَكْلِ الرِّبَا وَ نِسَاؤُهُمْ عَلَي زِينَةِ الدُّنْيَا وَ غِلْمَانُهُمْ فِي التَّزْوِيجِ فَعِنْدَ ذَلِكَ كَسَادُ أُمَّتِي كَكَسَادِ الْأَسْوَاقِ وَ لَيْسَ فِيهَا مُسْتَقِيمٌ الْأَمْوَاتُ آيِسُونَ فِي قُبُورِهِمْ مِنْ خَيْرِهِمْ- وَ لَا يَعِيشُونَ الْأَخْيَارُ فِيهِمْ فَعِنْدَ ذَلِكَ الزَّمَانِ الْهَرَبُ خَيْرٌ مِنَ الْقِيَامِ .

رسول خدا نے فرمایا: لوگوں پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ انکے حاکم ستمگر اور انکے علماء حریص ہوں گے اور انکے عبادت کرنے والے ریا کار ہوں اور انکے تاجر سود کھانے والے ہوں گے اور انکی عورتیں بناؤ سنگھار کی فکر میں ہوں گی اور انکے لڑکے شادی کی فکر میں ہوں گے، اس وقت میری امت کی بے برکتی اور بے رونقی، بازار کی بے برکتی اور بے رونقی کی طرح ہو گی، مردے اپنی قبروں میں انکی طرف سے خیر کے ملنے سے نا امید و مایوس ہوں گے اور انکے نیک لوگ بھی انکے ساتھ زندگی نہیں گزارتے۔ اس وقت ایسے لوگوں کے پاس رہنے سے ان سے فرار کرنا ہی بہتر ہے۔

بحار الأنوار ، علامه مجلسي ، ج 22 ، ص 454 به بعد.

صورتیں انسان جیسی، دل شیاطین جیسا:

يَأْتِي عَلَي النَّاسِ زَمَانٌ وُجُوهُهُمْ وُجُوهُ الْآدَمِيِّينَ وَ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ كَأَمْثَالِ الذُّبَابِ الضِّرَارِ- سَفَّاكُونَ لِلدِّمَاءِ لا يَتَناهَوْنَ عَنْ مُنكَرٍ فَعَلُوهُ إِنْ تَابَعْتَهُمُ ارْتَابُوكَ وَ إِنْ حَدَّثْتَهُمْ كَذَّبُوكَ وَ إِنْ تَوَارَيْتَ عَنْهُمُ اغْتَابُوكَ السُّنَّةُ فِيهِمْ بِدْعَةٌ وَ الْبِدْعَةُ فِيهِمْ سُنَّةٌ- وَ الْحَلِيمُ بَيْنَهُمْ غَادِرٌ وَ الْغَادِرُ بَيْنَهُمْ حَلِيمٌ وَ الْمُؤْمِنُ فِيمَا بَيْنَهُمْ مُسْتَضْعَفٌ وَ الْفَاسِقُ فِيمَا بَيْنَهُمْ مُشَرَّفٌ صِبْيَانُهُمْ عَارِمٌ وَ نِسَاؤُهُمْ شَاطِرٌ وَ شَيْخُهُمْ لَا يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَ لَا يَنْهَي عَنِ الْمُنْكَرِ الِالْتِجَاءُ إِلَيْهِمْ خِزْيٌ وَ الِاعْتِدَادُ بِهِمْ ذُلٌّ وَ طَلَبُ مَا فِي أَيْدِيهِمْ فَقْرٌ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَحْرِمُهُمُ اللَّهُ قَطْرَ السَّمَاءِ فِي أَوَانِهِ وَ يُنْزِلُهُ فِي غَيْرِ أَوَانِهِ- يُسَلِّطُ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ فَيَسُومُونَهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَ يَسْتَحْيُونَ نِسَاءَهُمْ فَيَدْعُو خِيَارُهُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُم .

رسول خدا (ص) نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ انکی شکلیں انسانوں جیسی لیکن انکے دل شیاطین جیسے ہوں گے، جیسے بھوکے اور خونخوار بھیڑیے ہوتے ہیں، برے کاموں سے منع نہیں ہوتے، اگر انکی پیروی کرو گے تو تم پر تہمت لگائیں گے اور اگر ان سے بات کرو گے تو تم کو جھٹلا دیں گے اور ان سے دور ہو تو تمہاری غیبت کریں گے۔

انکے نزدیک سنت، بدعت ہے اور بدعت، سنت ہے۔ صابر و حلیم انکے نزدیک، حیلہ گر اور خائن ہے اور خائن انکے نزدیک، صابر و حلیم ہے، مؤمن انکے نزدیک، مستضعف اور بدکار، انکے نزدیک، بلند مرتبہ ہے، انکے بچے، شریر ہیں اور انکی عورتیں خبیث اور بد جنس ہیں اور انکے بوڑھے امر بالمعروف و نہی از منکر نہیں کرتے۔

ان سے التماس کرنا، ذلت و خواری ہے، ان پر اعتماد کرنا، تکلیف دہ ہے اور جو کچھ انکے پاس ہے اسکو ان سے طلب کرنا، فقر و ناداری ہے، اسی وجہ سے خداوند نے مناسب وقت پر ان پر باران نازل کرنا، حرام قرار دیا ہوا ہے اور غیر مناسب وقت پر ان پر بارش کو نازل کرتا ہے، انکے بد ترین افراد کو ان پر مسلط کرتا ہے تا کہ ان پر سخت عذاب نازل کر سکے، وہ اپنے بیٹوں کو قتل کرتے ہیں اور اپنی عورتوں کو زندہ رکھتے ہیں، انکے نیک افراد دعا کرتے ہیں، لیکن وہ قبول نہیں ہوتی۔

بحار الأنوار ، علامة مجلسي ،ج 22 ، ص 454 به بعد.

چار چیزوں میں مبتلا ہونا:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وآله وسلّم يَأْتِي عَلَي النَّاسِ زَمَانٌ بُطُونُهُمْ آلِهَتُهُمْ وَ نِسَاؤُهُمْ قِبْلَتُهُمْ وَ دَنَانِيرُهُمْ دِينُهُمْ وَ شَرَفُهُمْ مَتَاعُهُمْ لَا يَبْقَي مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا اسْمُهُ وَ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا رَسْمُهُ وَ لَا مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا دَرْسُهُ- مَسَاجِدُهُمْ مَعْمُورَةٌ وَ قُلُوبُهُمْ خَرَابٌ عَنِ الْهُدَي عُلَمَاؤُهُمْ أَشَرُّ خَلْقِ اللَّهِ عَلَي وَجْهِ الْأَرْضِ حِينَئِذٍ ابْتَلَاهُمُ اللَّهُ بِأَرْبَعِ خِصَالٍ جَوْرٍ مِنَ السُّلْطَانِ وَ قَحْطٍ مِنَ الزَّمَانِ وَ ظُلْمٍ مِنَ الْوُلَاةِ وَ الْحُكَّامِ. فَتَعَجَّبَ الصَّحَابَةُ وَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَ يَعْبُدُونَ الْأَصْنَامَ قَالَ نَعَمْ كُلُّ دِرْهَمٍ عِنْدَهُمْ صَنَم .

رسول خدا (ص) نے فرمایا: لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ انکے شکم، انکے خدا ہیں اور انکی عورتیں، انکا قبلہ اور انکے دینار، انکا دین اور انکا شرف و عزت، انکا مال ہے، انکے پاس ایمان کا صرف نام ہے اور اسلام کی صرف علامت و نشانی و قرآن کا صرف درس باقی ہے۔

انکی مساجد آباد اور انکے دل ہدایت سے ویران ہیں، انکے علماء زمین پر بد ترین مخلوق ہیں، اس وقت خداوند ایسے لوگوں کو چار چیزوں کے ساتھ آزمائش کرے گا، حاکم کے ظلم، خشکسالی، قاضیوں اور وزیروں کے ظلم سے۔

پس صحابہ نے تعجب سے کہا: اے رسول خدا (ص) کیا یہ لوگ بتوں کی پرستش کرتے ہیں ؟ فرمایا: ہاں، ہر درہم انکے نزدیک ایک بت ہے۔

بحار الأنوار ، علامه مجلسي ، ج 22 ، ص 454 به بعد.

آخرالزمان کی عورتیں:

آخر الزمان کی بعض خواتین کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ:

رَوَي الْأَصْبَغُ بْنُ نُبَاتَةَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ وَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ وَ هُوَ شَرُّ الْأَزْمِنَةِ نِسْوَةٌ كَاشِفَاتٌ عَارِيَاتٌ مُتَبَرِّجَاتٌ مِنَ الدِّينِ دَاخِلَاتٌ فِي الْفِتَنِ مَائِلَاتٌ إِلَي الشَّهَوَاتِ مُسْرِعَاتٌ إِلَي اللَّذَّاتِ مُسْتَحِلَّاتٌ لِلْمُحَرَّمَاتِ فِي جَهَنَّمَ خَالِدَاتٌ،

اصبغ ابن نباتہ کہتا ہے کہ میں نے امیر المؤمنین علی کو فرماتے ہوئے سنا کہ: آخر الزمان میں بعض ایسی عورتیں ظاہر ہوں گی کہ جو بے پردہ، برہنہ، غیروں کے لیے بناؤ سنگھار کرنے والی، دین خدا کو ترک کرنے والی، شہوت رانی کرنے والی، حرام لذت والے کاموں میں جلدی کرنے والی، حرام خداوند کو حلال سمجھنے والی اور جہنم میں داخل ہونے والی ہیں۔

من لا يحضره الفقيه، شيخ صدوق(381 هق )، ج 3، ص 391.

خداوند کی طرف گناہ کی نسبت دینا:

رُوِيَ عَنْ جَابِرْ عَنْ النَّبي صلَّي اللهُ عَلَيهِ وَآلِهِ أنَّه قَالَ : يَكُونُ في آخِرِ الزَّمانِ قَومٌ يَعمَلوُنَ بِالمَعَاصي ثُمَّ يَقُولُونَ : اللهُ قدَّرَهَا عَلَينَا ، اَلرَّادُّ عَلَيهِمْ يَوْمَئِذٍ كَالشَّاهِرِ سَيْفَهُ فِي سَبيلِ الله .

جابر نے رسول خدا (ص) سے روايت نقل کی ہے کہ: آخر الزمان میں ایسے مرد آئیں گے کہ جو گناہ انجام دیں گے اور پھر کہیں گے: یہ خدا کی مرضی اور تقدیر ایسی تھی کہ ہم گناہ انجام دیں، اس زمانے میں جو بھی ان لوگوں کے خلاف شمشیر سے قیام کرے تو حقیقت میں اس شخص نے راہ خدا میں قیام کیا ہے۔

رسائل المرتضي ، سيّد مرتضي(436 هق ) ، ج 2، ص 242 .

آخر الزمان کی اولاد:

رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلي الله عليه و آله و سلّم أَنَّهُ نَظَرَ إِلَي بَعْضِ الْأَطْفَالِ فَقَالَ وَيْلٌ لِأَوْلَادِ آخِرِ الزَّمَانِ مِنْ آبَائِهِمْ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ آبَائِهِمُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَا مِنْ آبَائِهِمُ الْمُؤْمِنِينَ لَا يُعَلِّمُونَهُمْ شَيْئاً مِنَ الْفَرَائِضِ وَ إِذَا تَعَلَّمُوا أَوْلَادُهُمْ مَنَعُوهُمْ- وَ رَضُوا عَنْهُمْ بِعَرَضٍ يَسِيرٍ مِنَ الدُّنْيَا فَأَنَا مِنْهُمْ بَرِي ءٌ وَ هُمْ مِنِّي بِرَاءٌ،

رسول اكرم (ص) نے بعض بچوں کی طرف دیکھا اور فرمایا: آخر الزمان کی اولاد کے والدین کے لیے ہلاکت اور افسوس ہے، عرض ہوا یا رسول اللہ انکے مشرک والدین کے لیے ؟ فرمایا: نہ، بلکہ مسلمان والدین کے لیے کہ جو احکام دینی اپنے بچوں کو نہیں سیکھاتے اور اگر بچے خود احکام دینی سیکھنے چاہیں تو وہ انکو منع کرتے ہیں اور وہ صرف اس پر ہی خوش ہیں کہ تھوڑا مال دنیا انکے پاس ہے، پھر فرمایا: میں ایسے والدین سے اور وہ مجھ سے بیزار ہیں۔

جامع أحاديث الشيعة - السيد البروجردي - ج 21 ص 408

آخر الزمان کے لوگوں کے حالات:

عن عبد الله بن عباس قال : حججنا مع رسول الله صلي الله عليه وآله حجة الوداع فأخذ باب الكعبة ثم أقبل علينا بوجهه فقال : ألا أخبركم بأشراط الساعة ؟ - وكان أدني الناس منه يومئذ سلمان رضي الله عنه - فقال : بلي يا رسول الله ، فقال : إن من أشراط القيامة إضاعة الصلاة ، واتباع الشهوات ، والميل مع الأهواء وتعظيم المال ، وبيع الدين بالدنيا ، فعندها يذاب قلب المؤمن وجوفه كما يذوب الملح في الماء مما يري من المنكر فلا يستطيع أن يغيره .

قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان إن عندها امراء جورة ، ووزراء فسقة ، وعرفاء ظلمة ، وامناء خونة ، فقال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان إن عندها يكون المنكر معروفا ، والمعروف منكرا ، وائتمن الخائن ويخون الأمين ، ويصدق الكاذب ، ويكذب الصادق ، قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان فعندها إمارة النساء ، ومشاورة الإماء ، وقعود الصبيان علي المنابر ، ويكون الكذب طرفا ، والزكاة مغرما ، والفيئ مغنما ، ويجفو الرجل والديه ، و يبر صديقه ، ويطلع الكوكب المذنب ،

قال ، قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال : أي والذي نفسي بيده . يا سلمان وعندها تشارك المرأة زوجها في التجارة ، ويكون المطر قيظا ، و يغيظ الكرام غيظا ، ويحتقر الرجل المعسر ، فعندها يقارب الأسواق إذا قال هذا : لم أبع شيئا وقال هذا : لم أربح شيئا فلا تري إلا ذاما لله ، قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان فعندها يليهم أقوام إن تكلموا قتلوهم ، وإن سكتوا استباحوهم ليستأثروا بفيئهم ، وليطؤون حرمتهم ، وليسفكن دماءهم ، ولتملأن قلوبهم رعبا ، فلا تراهم إلا وجلين خائفين مرعوبين مرهوبين ، قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال إي والذي نفسي بيده . يا سلمان : إن عندها يؤتي بشئ من المشرق وشئ من المغرب يلون أمتي فالويل لضعفاء أمتي منهم ، والويل لهم من الله ، لا يرحمون صغيرا ، ولا يوقرون كبيرا ولا يتجاوزون عن مسئ ، أخبارهم خناء ، جثتهم جثة الآدميين وقلوبهم قلوب الشياطين ،

قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان ، وعندها تكتفي الرجال بالرجال ، والنساء بالنساء ، ويغار علي الغلمان كما يغار علي الجارية في بيت أهلها ، ويشبه الرجال بالنساء ، والنساء بالرجال ، ويركبن ذوات الفروج السروج فعليهن من أمتي لعنة الله ، قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ فقال صلي الله عليه وآله : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان إن عندها تزخرف المساجد كما تزخرف البيع والكنائس ، و يحلي المصاحف ، وتطول المنارات ، وتكثر الصفوف بقلوب متباغضة وألسن مختلفة ، قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال صلي الله عليه وآله : إي والذي نفسي بيده . وعندها تحلي ذكور أمتي بالذهب ، ويلبسون الحرير والديباج ، ويتخذون جلود النمور صفافا ،

قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال صلي الله عليه وآله : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان وعندها يظهر الربا ، ويتعاملون بالغيبة والرشاء ،ويوضع الدين ، و ترفع الدنيا ، قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ فقال صلي الله عليه وآله : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان وعندها يكثر الطلاق ، فلا يقام لله حد ، ولن يضر الله شيئا ، قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال صلي الله عليه وآله : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان وعندها تظهر القينات والمعازف ، ويليهم أشرار أمتي ، قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال صلي الله عليه وآله : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان وعندها تحج أغنياء أمتي للنزهة ، وتحج أوساطها للتجارة ، وتحج فقراؤهم للرياء والسمعة ، فعندها يكون أقوام يتعلمون القرآن لغير الله ، ويتخذونه مزامير ، ويكون أقوام يتفقهون لغير الله ، ويكثر أولاد الزنا ، ويتغنون بالقرآن ، ويتهافتون بالدنيا ، قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال صلي الله عليه وآله : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان ذاك إذا انتهكت المحارم ، واكتسبت المآثم ، وسلط الأشرار علي الأخيار ، ويفشو الكذب ، وتظهر اللجاجة ، ويفشو الحاجة ، ويتباهون في اللباس ويمطرون في غير أوان المطر ، ويستحسنون الكوبة والمعازف ، وينكرون الامر بالمعروف والنهي عن المنكر ، حتي يكون المؤمن في ذلك الزمان أذل من الأمة ، ويظهر قراؤهم وعبادهم فيما بينهم التلاوم ، فأولئك يدعون في ملكوت السماوات : الأرجاس والأنجاس ،

قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ فقال صلي الله عليه وآله : إي والذي نفسي بيده . يا سلمان فعندها لا يخشي الغني إلا الفقر حتي أن السائل ليسأل فيما بين الجمعتين لا يصيب أحدا يضع في يده شيئا ، قال سلمان : وإن هذا لكائن يا رسول الله ؟ قال صلي الله عليه وآله ، إي والذي نفسي بيده . يا سلمان عندها يتكلم الرويبضة ، فقال : وما الرويبضة يا رسول الله فداك أبي وأمي ؟ قال صلي الله عليه وآله : يتكلم في أمر العامة من لم يكن يتكلم ، فلم يلبثوا إلا قليلا حتي تخور الأرض خورة ، فلا يظن كل قوم إلا أنها خارت في ناحيتهم فيمكثون ما شاء الله ثم ينكتون في مكثهم فتلقي لهم الأرض أفلاذ كبدها - قال : ذهب وفضة - ثم أومأ بيده إلي الأساطين فقال : مثل هذا ، فيومئذ لا ينفع ذهب ولا فضة.

عبد اللَّه ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ حجۃ الوداع پر ہم رسول خدا کے ساتھ حج پر گئے، رسول خدا نے باب کعبہ کو پکڑا اور ہماری طرف رخ کر کے فرمایا: کیا تم لوگوں قیامت کی علامات بتاؤں ؟

اس وقت رسول خدا کے سب سے زیادہ نزدیک بیٹھے ہوئے صحابی سلمان نے جواب دیا: ہاں یا رسول اللہ، اس پر رسول خدا نے فرمایا: قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ نماز ضائع ہوتی ہے یعنی مسلمانوں کے درمیان سے نماز ختم ہو جائے گی اور ہوائے نفس کی پیروی کی جائے گی، مال و دولت کا عظیم مقام ہو گا اور لوگ بھی مال کی تعظیم کریں گے، دنیا کے لیے دین کو بیچ دیا جائے گا، اس وقت مؤمن کا دل پانی میں نمک کی طرح حل ہو جائے گا، جب وہ بہت سے غلط کاموں کو دیکھے گا لیکن انکے خلاف کچھ کر نہیں سکے گا۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا دن بھی آئے گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس وقت مسلمانوں کی حکمرانی ظالم حکمرانوں کے ہاتھ میں ہو گی کہ جنکے وزیر بھی فاسق، ستمگر اور خائن ہوں گے۔

سلمان نے پوچھا: کیا واقعی یا رسول اللہ ایسے حالات پیش آئيں گے ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس وقت منکر، معروف اور معروف، منکر میں تبدیل ہو جائے گا، خائن، امین اور امین، خائن سمجھا جائے گا، جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور سچے کی بات کو جھٹلا دیا جائے گا۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس زمانے میں عورتوں کی حکومت ہو گی اور کنیزوں سے مشورے کیے جائیں گے اور بچے منبروں پر چڑھ جائیں گے اور جھوٹ، کو ایک طرح کی چالاکی، زکات کو مالی نقصان اور بیت المال کھانے کو غنیمت کہا جائے گا، مرد والدین کے ساتھ ظلم لیکن دوستوں سے نیکی کرے گا۔

سلمان نے پھر تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو کر رہے گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس وقت عورت اپنے شوہر کے ساتھ تجارت میں شریک ہو گی، بارش اپنے وقت پر نہیں برسے گی بلکہ گرمیوں میں برسے گی اور کریم افراد کو بہت غصہ آتا ہو گا اور فقیروں کی اہانت کی جائے گی، اس وقت بازار آپس میں بہت نزدیک ہو جائیںگے، جب ایک کہے گا: میں نے چیز فروخت نہیں کی تو دوسرا کہے گا: مجھے کوئی نفع نہیں ہوا، وہ یہ بات اس انداز سے کہیں گے کہ ہر سننے والا سمجھ جائے گا کہ وہ اپنی اس بات سے خدا کی نا شکری کر رہا ہے۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس وقت ایسے لوگوں پر ایسی اقوام مسلط ہوں گی کہ اگر تھوڑی بھی کوئی حرکت کریں گے تو قتل کر دئیے جائیں گے اور کچھ نہیں کہیں گے تو انکے دشمن انکی ساری چيزوں کو اپنے لیے حلال کر لیں گے یہاں تک کہ انکے ہی بیت المال سے اپنے تھیلے بھریں گے اور ان ہی کی ناموس پر حملہ کریں گے، انکے خون کو بہائیں گے اور انکے دلوں کو رعب و وحشت سے بھر دیں گے اور تم اس دن مؤمنین کو صرف خوف و رعب و دہشت کی حالت میں دیکھو گے۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا مؤمنین کے ساتھ ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس وقت مشرق و مغرب سے کسی چیز کو لائیں گے تا کہ امت اسلام کی رہبری کریں، اس دن شرقی و غربی کے شر سے میری امت کے ضعیف لوگوں کا کتنا برا حال ہو گا اور ان شرقیوں اور غربیوں کا عذاب خدا سے کتنا برا حال ہو گا، ہاں نہ کسی صغیر پر رحم کیا جائے گا اور نہ کسی کبیر کا احترام کیا جائے گا، اور ہی نہ کسی قصور وار کو معاف کیا جائے گا، انکی ساری خبریں گالیاں ہوں گی، انکے بدن انسانوں کی طرح لیکن انکے دل شیاطین کی طرح کے ہوں گے۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس وقت مرد، مرد پر گزارہ کریں گے اور عورتیں، عورتوں پر، اس وقت باپ اور خاندان جسطرح بیٹیوں کے بارے میں با غیرت ہوں گے، اسی طرح بیٹوں کے لیے بھی با غیرت بن جائیں گے، مرد، عورتوں کا حلیہ اور عورتیں، مردوں کا حلیہ اپنا لیں گی، عورتیں سواریوں پر سوار ہوں گی کہ اس وقت میری امت کی طرف سے خداوند کی لعنت ان پر ہو گی۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس وقت مساجد پر سونے سے زینت کی جائے گی، جیسے یہودیوں اور مسیحیوں کی عبادت گاہوں کو سونے سے زینت دی جاتی ہے، قرآن کو بھی سونے کے سامان سے سجایا جائے گا اور اونچے مناروں کی بہت تعریف کی جائے گی،

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس وقت میری امت کے مرد اور لڑکے اپنے آپکو سونے سے زینت دیں گے اور ریشم پہنا کریں گے اور چیتے کی کھال کی خرید و فروخت کرنا، انکا کاروبار ہو گا۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس دن سود ہر جگہ پھیل جائے گا اور تمام معاملات غیبت اور رشوت کے ساتھ انجام پائیں گے اور دین ذلیل و خوار اور دنیا بلند مرتبہ ہو جائے گی۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس وقت طلاق زیادہ ہو جائیں گی اور کوئی بھی شرعی حد جاری نہیں ہو گی اور اس کام کا خداوند کو کوئی بھی ضرر نہیں ہو گا۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس زمانے میں گانا گانے اور موسیقی کے آلات استعمال کرنے والی عورتیں موجود ہوں گی اور میری امت کے برے لوگ، میری امت پر حاکم ہو جائیں گے۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس وقت میری امت کے امیر لوگ صرف سیر و تفریح کی نیت سے، متوسط طبقے کے لوگ تجارت اور فقیر لوگ ریا کی نیت سے حج پر جایا کریں گے، اس وقت بعض اقوام قرآن کو غیر خدا کے لیے سیکھیں گے اور اسے ایک طرح کا جوا اور موسیقی کا آلہ سمجھ لیں گے، جبکہ بعض اقوام غیر خدا کے لیے شرعی احکام کی تعلیم لیں گی، اس زمانے میں حرام زادے زیادہ ہو جائیں گے، قرآن کو گانے کی پڑھیں گے اور دنیا کے لیے بہت خون خرابہ ہو گا۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان یہ وہ وقت ہو گا کہ جب حرمت اور حدود خداوند کو پامال کیا جائے گا اور لوگ جان بوجھ کر گناہ انجام دیں گے اور برے لوگ، نیک لوگوں پر مسلط ہو جائیں گے، جھوٹ واضح طور پر ظاہر ہو جائے گا، فقراء اپنے فقر کو ظاہر کر دیں گے، لوگ لباس کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کیا کریں گے، بارش اپنے وقت پر نہیں برسا کرے گی اور لوگ شطرنج اور موسیقی کے ساز بجانے کو اچھا سمجھیں گے اور امر بالمعروف و نہی از منکر کی عملی طور پر مذمت کی جائے گی، یہاں تک کہ ایک مؤمن انسان، امت کا ذلیل ترین فرد سمجھا جائے گا، قرآن کے قاری، عابد لوگوں کی مذمت کریں گے اور عابد لوگ، قرآن کے قاری افراد کو برا بھلا کہیں گے،

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس زمانے میں مالدار کو صرف یہ پریشانی ہو گی کہ کہیں میں فقیر نہ ہو جاؤں، اور حتی ایک فقیر پورے ہفتے بھیک مانگتا رہے گا لیکن کوئی اسکو کچھ نہیں دے گا۔

سلمان نے تعجب سے پوچھا: یا رسول اللہ کیا واقعی ایسا ہو گا ؟ فرمایا: ہاں، اس خدا کی قسم کہ جسکے اختیار میں میری جان ہے، اے سلمان اس زمانے میں روبیضہ باتیں کیا کریں گے، پوچھا گیا یا رسول اللہ روبیضہ کیا ہے ؟ فرمایا: وہ بندہ یا وہ شی بھی عام چیزوں کے بارے میں بات کرے گا کہ جو ہرگز ایسی بات نہیں کرے گا، یہ وہ زمانہ ہو گا کہ لوگ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہیں گے، اچانک زمین چیخ و پکار کرے گی اور ہر قوم یہ گمان کرے گی کہ صرف زمین نے اسکی طرف دیکھ کر چیخا ہے اور پھر جس وقت تک خداوند چاہیں گے صورتحال ایسی ہی رہے گی اور پھر زمین برعکس و درہم برہم ہو جائے گی اور جو کچھ زمین میں ہو گا، اسکو باہر اگل دے گی یعنی سونے اور چاندی کو، پھر رسول خدا نے اپنے دست مبارک سے وہاں پر موجود ستونوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: اسکی طرح ہر چیز باہر آ جائے گی، لیکن اس دن نہ سونے کا فائدہ ہو گا اور نہ ہی چاندی کا۔

بحار الأنوار ، علامه مجلسي ، ج 6 ، ص 309 .

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی