2019 December 12
جناب علی اکبر (ع) جوانوں کے لیے عملی نمونہ:
مندرجات: ١٧٩٥ تاریخ اشاعت: ٢١ April ٢٠١٩ - ١١:٢٣ مشاہدات: 214
یاداشتیں » پبلک
جدید
جناب علی اکبر (ع) جوانوں کے لیے عملی نمونہ:

 

جناب علی اکبر (ع) جوانوں کے لیے عملی نمونہ:

مناسب عملی نمونہ:

ہم جوان ایک عملی نمونے کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ جو ہمارا ہم عمر ہو اور جو ہماری طرح جوانی کے جوبن پر ہو کہ جو زندگی کے نشیب و فراز سے آگاہ ہو، ایسا دوست کہ جسکو معاشرتی، سیاسی حتی اقتصادی مشکلات سے آگاہی ہو، ایسا دوست برتاؤ، بات کرنے، شجاعت، سخاوت وغیرہ کے لحاظ سے ہمارے لیے بھی آئیڈیل ہو گا۔

ہم اس تحریر میں ایسے 18 سال کے عملی نمونے کے بارے میں چند مطالب ذکر کریں گے:

جناب علی اکبر 11 شعبان سن 33 ہجری کو اس دنیا میں تشریف لائے، والد بزرگوار نے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کی تلاوت فرمائی، تا کہ یہ نو مولود ابتداء سے ہی توحید، نبوت اور ولایت و امامت جیسے مفاہیم سے زبان امامت سے آشنا ہو جائے۔ اس وقت کے حکومتی اور سیاسی حالات اس قدر خراب تھے کہ کسی بھی بچے کا علی نام رکھنا، نا قابل معافی جرم سمجھا جاتا تھا، کیونکہ امام حسین جانتے تھے کہ انسان کی شخصیت کا سب سے پہلا مقدمہ اسکا نام ہی ہوتا ہے، اسی وجہ سے اپنے اس بیٹے کا نام علی رکھا تا کہ اسی نام کی وجہ سے بہترین برکات اور زیبا ترین صفات اس بچے کے وجود پر نازل ہوں۔ اس مبارک نام کے ساتھ اکبر کا لقب لگایا تا کہ واضح ہو جائے کہ یہ بچہ اس مبارک گھرانے کا پہلا فرزند ہے۔

امام حسین (ع) کہ جو تربیت اولاد کے تمام تربیتی ضوابط و اصول سے مکمل آگاہی رکھتے تھے، وہ خود کو بچوں کی دنیا کے مناسب برتاؤ سے اپنے بچے کے ساتھ سلوک کیا کرتے تھے تا کہ بچے کی روح و باطن پر شروع سے ہی مثبت آثار پڑنا شروع ہوں۔

جناب علی اکبر کے بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ والد گرامی کے الفاظ برتر، آداب و اخلاق بہترین، بچے کا احترام زیادہ تر اور زندگی گزارنے کے عملی طریقے بتاتے تھے تا کہ بچہ اپنی شخصیت کو جان لے اور اپنے وجود کی قدر و قیمت سے زیادہ آگاہ ہو۔ اسی وجہ سے امام حسین (ع) جب بھی اپنے بیٹے کا نام لیتے تھے تو بہت ہی با احترام الفاظ انتخاب کرتے تھے تا کہ بچہ زندگی کی ابتداء سے ہی اپنی شخصیت کے احترام کا قائل ہو۔

مکتب علمی کی طرف:

جب جناب علی اکبر 7 برس  کے ہوئے تو انھوں نے اپنی علمی اور دینی سفر کا غاز کیا اور اپنے والد گرامی کے زیر سایہ اپنی اعتقادی اور علمی نشو و نما کی بنیادوں کو محکم و استوار کیا۔

ایک دن آپکے والد گرامی نے عبد الرحمن نامی شخص سے کہا کہ میرے بیٹے کو سورہ حمد پڑھنا سیکھائے۔ جب سیکھانے کا عمل مکمل ہو گیا تو علی اکبر نے اپنے والد گرامی کے سامنے سورہ حمد کی تلاوت فرمائی تو انھوں نے عبد الرحمن کو بہت سے انعام و اکرام سے نوازا تو جب بعض لوگوں نے اس قدر انعام و اکرام پر تعجب کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا:

یہ سارے تحائف قرآن کی تعلیم کے مقابلے پر کچھ بھی نہیں ہیں۔

جناب علی اکبر نے جوانی میں ہی اپنی اخلاقی صفات کی وجہ سے بہت سے جوانوں کو اپنی طرف جذب کر لیا تھا۔ وہ اپنے جدّ کی اخلاقی اور علمی سیرت سے بخوبی آگاہ تھے، اسی وجہ سے وہ ہمیشہ انکے کردار کو سامنے رکھ کر عمل کیا کرتے تھے اور کوشش کیا کرتے تھے کہ اپنے جدّ کی صفات و اخلاق پر عمل کریں۔ وہ اپنی جوانی میں ہی اپنے دوستوں سے گشادہ روئی سے ملتے تھے لیکن تنہائی میں اہل فکر و غمگین رہتے تھے۔ خدا کے ساتھ خلوت میں مناجات کرنے کو بہت ہی پسند کرتے تھے۔

روز مرہ کی زندگی میں سخت گیر نہیں تھے، حلیم و بردبار تھے، زیادہ تر سر نیچا کر کے زمین کی طرف دیکھتے رہتے تھے اور فقراء کے ساتھ زیادہ وقت گزارا کرتے تھے، ایک ہی دستر خوان پر انکے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔

ہرگز کسی کی عیب جوئی نہیں کرتے تھے، خوشامدی اور چاپلوسی کرنے والوں سے دور ہی رہتے تھے۔ تمام انسانوں کو خداوند کی مخلوق اور بندے شمار کرتے تھے، اسی لیے کسی کی بھی توہین و تذلیل نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے ساری زندگی کسی کو گالی نہیں دی تھی، جھوٹ سے بہت نفرت کیا کرتے تھے، خود ہمیشہ اور ہر جگہ راست گوئی سے کام لیتے تھے، بہت زیادہ سخی انسان تھے، جو بھی ہاتھ میں آ جاتا دوسروں پر اور خاص طور پر فقراء پر خرچ کر دیا کرتے تھے۔ ہمیشہ بیماروں کی عیادت کے لیے جایا کرتے تھے۔

اپنے ہمعمر افراد کے لیے مہربان بھائی اور بچوں کے لیے دلسوز باپ کی مانند تھے۔ مسلمانوں پر لطف و احسان کیا کرتے تھے۔ امور دنیا اور مادی مشکلات آپکی ہمت اور ارادے کو متزلزل نہیں کرتے تھے۔

جناب علی اکبر کی زندگی بہت سادہ تھی کہ جس میں تجمل گرا‏ئی اور اسراف بالکل نہیں تھے۔ نیک اور با اخلاق افراد کی آپ بہت عزت و احترام کیا کرتے تھے۔ رشتے دار آپکے صلہ رحم سے بھرہ مند ہوتے رہتے تھے۔ آپ بہت صبر کرنے والے تھے اور کسی سے بھی بے جا توقع اور امید نہیں رکھتے تھے۔

میدان جنگ میں شجاع اور طاقت ور تھے، دشمن کی کثرت ہرگز آپکو خوف میں مبتلا نہیں کرتی تھی۔ عدالت کے قائم کرنے اور حق کے دفاع میں بہت محکم اور مضبوط تھے۔ محرومین اور مظلومین کی مدد کرنے میں پیش پیش اور ظالمین کے مقابلے پر فورا کھڑے ہو جاتے تھے۔ جب تک حقدار کو اسکا حق نہیں مل جاتا تھا، چین سے نہیں بیٹھتے تھے۔ علم و معرفت حاصل کرنے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے اور اپنے چاہنے والوں کو جہالت اور لا علمی سے منع کیا کرتے تھے۔

پاکیزگی اور صفائی پر بہت توجہ دیتے تھے، یہ صفات آپ میں بچپن سے ہی نمایان تھیں۔ اسی وجہ سے بدن اور لباس کی نظافت کا خاص خیال رکھتے تھے۔

تکبر سے سخت نفرت کرتے تھے، نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانات سے بھی محبت کرتے تھے۔

جہنوں نے انکے چہرہ انور کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے، وہ ایسے بیان کرتے ہیں کہ:

انکا چہرہ بہت با رعب اور چودویں کے چاند کی مانند نورانی تھا، انکا چہرہ خوبصورت اور صاف ستھرا تھا، جب بھی کسی کی طرف توجہ کرتے تھے تو اپنے مکمل چہرے کے ساتھ توجہ کرتے تھے، وہ آسمان کی نسبت زیادہ زمین کی طرف دیکھتے تھے۔

تاريخ يعقوبي، ج 1، ص 513

ان نورانی صفات کی روشنی میں جناب علی اکبر کی شخصیت کو جانا جا سکتا ہے۔ یہ فرزند امام حسین ہیں کہ جو اپنے جدّ رسول خدا کی طرح سیرت میں نورانی اور صورت میں آسمانی تھے، انکے کلام کرنے، چلنے اور دوسرے اخلاقی کاموں سے ہمیشہ رسول خدا (ص) کا نام اور انکی یاد تازہ ہوتی تھی۔

امام حسین (ع) نے بھی اپنے بیٹے کو خلقت اور اخلاق میں رسول خدا (ص) سے سب سے زیادہ شبیہ انسان قرار دیا ہے۔

شیرین کلام، سادہ انداز، والدین کے سامنے با ادب، اپنے امام وقت کی بی چون و چرا اطاعت وغیرہ مزید اخلاقی صفات ہیں کہ جو جناب علی اکبر کے مبارک وجود میں پائی جاتی ہیں۔ جب یہ صفات عاجزی و انکساری کے ساتھ ہوتیں تھیں تو تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتی تھیں۔

جناب علی اکبر ساحل فرات پر:

علی اکبر کا کردار معرکہ کربلا میں بہت نمایان ہے، وہ میدان کربلا میں اپنے ہر حملے میں بہت سے یزیدوں کو واصل جہنم کر دیتے تھے۔ میدان جنگ کے جنگجوؤں کا علم و معرفت سے بہت کم تعلق ہوتا ہے کیونکہ انکی ساری زندگی جہاد و جنگ میں گزر جاتی ہے یا تو انکو فرصت نہیں ملتی اور یا انکی توجہ علم و معرفت کسب کرنے میں بہت ہی کم ہوتی ہے، لیکن علی اکبر کی جوانی اور زندگی کئی جہات پر مشتمل تھی، علم و معرفت کے چشمے انکے مبارک وجود سے پھوٹھتے تھے، علماء اور عقلا کی محافل میں جب لب گشائی کرتے تو تمام افراد حیرت زدہ ہو جاتے تھے۔

ہم جوانان اگرچہ بعض اوقات چند نیک صفات سے آراستہ ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی زندگی میں پیش آنے والے مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنے کی ہم میں ہمت نہیں ہوتی، حتی کم ترین مصیبت بھی ہمارے اخلاق اور صبر کو شکست دینے کے لیے کافی ہوتی ہے، جبکہ جناب علی اکبر مشکلات اور مصائب میں ہمیشہ رضائے خداوند کی تلاش میں انکے حضور سر تسلیم خم کر دیتے تھے اور خداوند کی طرف سے پیش آنے والی آزمائش کے سامنے ایسے مطمئن و پر سکون دکھائی دیتے تھے کہ دوسروں کو بھی اس صبر و ہمت سے حیران کر دیتے تھے، اسی وجہ سے معرکہ کربلا میں اپنے والد گرامی سے عرض کیا:

او لسنا علي الحق ،

کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟

جب امام حسین (ع) نے جواب دیا: ہاں ہم ہی حق پر ہیں،

تو آپ نے کہا: پھر ہمیں کسی چیز کا کوئی خوف نہیں ہے۔

اسی عظمت و جلالت والی صفات نے ایسا رعب و ہیبت علی اکبر کو عطا کی ہوئی تھی کہ دوست تو دوست حتی دشمن بھی انکی شجاعت اور بہادری کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔

معاویہ (لع) نے ایک دن اپنے اطراف میں بیٹھے (بے دین) افراد سے سوال کیا: اس زمانے میں کون مسلمانوں پر خلافت اور حکمرانی کرنے کی قابلیت اور صلاحیت رکھتا ہے ؟

سب چاپلوسوں نے معاویہ کی مدح و تعریف کرنا شروع کر دی اور اسے اس منصب کے لیے سب سے مناسب قرار دینے لگے۔

معاویہ نے کہا:

نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ:

اولي الناس بهذا الامر علي بن الحسين بن علي جده رسول الله و فيه شجاعه بني هاشم و سخاه بني اميه و رهو ثقيف ،

امر خلافت اور حکومت کے لیے سب سے مناسب فرد علی ابن حسین ہے کہ جسکے جدّ رسول خدا ہیں کہ جس میں بنی ہاشم کی شجاعت، بنی امیہ کی سخاوت اور قبیلہ ثقیف کی خوبصورتی پائی جاتی ہے۔

مقاتل الطالبيين، ص 78

روز عاشورا میدان کربلا میں تمام اصحاب امام حسین (ع) کے شہید ہونے کے بعد سب سے پہلے اپنے امام وقت پر جان نثار کرنے کے لیے، اذن شہادت لینے والے جناب علی اکبر ہی ہیں۔ انکا شہادت کے لیے میدان میں جانا اگرچہ اہل بیت اور خود امام حسین (ع) کے لیے جان سوز تھا لیکن حضرت علی اکبر جیسے شجاع اور فرمانبردار بیٹے سے یہی توقع ہی کی جا سکتی تھی۔ حضرت علی اکبر ایسے شہید ہیں کہ جو کربلا میں امام حسین (ع) کی ضریح مقدس میں اپنے والد گرامی کے مبارک قدموں میں دفن ہیں۔

قرآن کی نظر میں جوان:

اِذ اَوَی الفِتیة اِلَی الکَهفِ فَقالُوا رَبَّنا اتنا مِن لَدُنکَ رَحمَةً وَ هی لَنا مِن أَمرِنا رَشَداً ،

جبکہ کچھ جوانوں نے غار میں پناہ لی اور یہ دعا کی کہ پروردگارا ہم کو اپنی رحمت عطا فرما اور ہمارے لیے ہمارے کام میں کامیابی کا سامان فراہم کر دے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں دو مرتبہ اور دونوں مرتبہ سورہ کہف میں لفظ فتیہ (جوان) استعمال ہوا ہے۔

ایک روایت میں بھی اس طرح بیان ہوا ہے کہ: امام صادق علیہ السلام نے ایک شخص سے سوال کیا کہ تمہاری نظر میں "فتی" کے کیا معنی ہیں؟

اس شخص نے جواب دیا: جوان، امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نہیں، " فتی" سے مراد مؤمن ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اصحاب کہف سن رسیدہ تھے لیکن خدا نے انہیں ان کے ایمان کی بدولت جوان کہا ہے۔ اس بناء پر قرآن کی نگاہ میں سن و سال اور بازو کی طاقت کے مالک انسان کو جوان نہیں کہا جاتا، بلکہ جوان ایمانی طاقت کا نام ہے۔

ایک اور حدیث میں آیا ہے:

وہ سب نوجوان نہیں تھے لیکن قرآن نے انہیں نوجوان کہا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی نگاہ میں جوان اسے کہا جاتا ہے جس کے پاس ایمانی طاقت ہو اور وہ انقلاب لانے کی طاقت رکھتا ہو اور اسی طرح وہ اپنے راستے کو تبدیل کرنے پہ بھی قادر ہو قرآن نے انہیں "فتیہ" کہا ہے کیونکہ قرآن یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ عام نوجوان تھے نہ کہ پیغمبر، رسول یا خاص ولی۔

اس آیت کے پیغامات:

1- نوجوان کی توانائی، راہ حق میں قربانی ادا کرنے، حقیقت کو غیر حقیقت پر ترجیح دینے، صحیح عقیدہ کی پہچان کرنے اور دنیاوی لذتوں کو ترک کرنے میں پوشیدہ ہے۔

2- مؤمن، ظاہری اسباب و ذرائع فراہم ہونے کے باوجود ان سے لگاؤ نہیں رکھتا بلکہ وہ صرف خداوند کی رحمت کا امیدوار اور اس کی قدرت پر اعتماد کرتا ہے۔

3- جوان صرف اسی صورت میں خدا کو پا سکتا ہے جب تمام جھوٹے معبودوں کی نفی کرے اور اپنے آپ کو ان سے دور رکھے۔

4- جوان کو ہمیشہ حقیقت طلب ہونا چاہیے۔

5- سماجی مسائل سے نوجوان کو غافل نہیں رہنا چاہیے، بلکہ صحیح معنی میں حق کو باطل سے پہچاننے کی کوشش کرے جیسا کہ اصحاب کہف نے باطل معاشرے سے دوری اختیار کرتے ہوئے غار میں پناہ لی۔

6- جوان آلودہ فضا میں زندگی بسر کرنا پسند نہیں کرتا بلکہ ہجرت کے ذریعہ فاسد معاشرے سے اپنے آپ کو نجات دیتا ہے۔

جوانی کی اہمیت:

جس طرح درختوں کی شاخیں اور ٹہنیاں موسم بہار میں نکھرتی ہیں اسی طرح انسان کی روح جوانی میں نکھرتی ہے، جسطرح درخت بہار کے موسم میں ہرے بھرے ہو جاتے ہیں، اسی طرح جوانی بھی روحی اور معنوی صلاحیتوں کو بار آور کرنے کا وقت ہے، یہ ایسی صلاحیتیں ہیں کہ اگر بار آور ہو جائیں تو ان کے نتیجہ میں انسان کی بقیہ عمر بڑھاپے تک انہی کے سایہ میں پروان چڑھتی ہے۔

زندگی میں‏ جوانی کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی (ع) جوانی کے بارے میں فرما رہے ہیں:

شيئان‏ لا يعرف‏ فضلهما إلّا من فقد هما ألشّباب و العافية

دو چیزیں ایسی ہیں جن کی قدر صرف اسی وقت معلوم ہوتی ہے جب یہ ہاتھ سے نکل جاتی ہیں ایک جوانی اور دوسری تندرستی۔

عبد الواحد بن محمد تميمى آمدى، غرر الحكم و درر الكلم، ص 414

جوانی کا دور زندگی کا اہم ترین دور ہوتا ہے اگرچہ جوان کو پہلے مرحلے میں کسی قسم کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا اور وہ اپنی کھوئی ہوئی شخصیت کی تلاش میں رہتا ہے، چنانچہ وہ اپنی اہم فطری صلاحیتوں پر توجہ کرے اور اپنے تشخص کو پا لے اور اس سنہرے موقع سے استفادہ کر لے تو اس کی زندگی کی بنیادیں مضبوط و مستحکم ہو جائیں گي اور وہ منزل کمال تک پہنچ جائے گا۔

در حقیقت جوان کے اندر ذہنی طور پر یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کیونکہ وہ اس خالی اور زرخیز زمین کی طرح سے ہے جو بوئے جانے والے ہر بیج کو اگانے اور اس کی پرورش کے لیے تیار ہے، جس طرح امام على (ع) فرما رہے ہیں:

إِنَّمَا قَلْبُ‏ الْحَدَثِ‏ كَالْأَرْضِ الْخَالِيَةِ مَا أُلْقِيَ فِيهَا مِنْ شَيْ‏ءٍ قَبِلَتْهُ فَبَادَرْتُكَ بِالْأَدَبِ قَبْلَ أَنْ يَقْسُوَ قَلْبُكَ وَ يَشْتَغِلَ لُبُّك ،

بے شک نوجوان کا دل خالی زمین کی مانند ہوتا ہے، جو چیز اس میں ڈالی جائے اسے قبول کر لیتا ہے، لہٰذا اس سے قبل کہ تمہارا دل سخت ہو جائے اور تمہارا ذہن دوسری باتوں میں مشغول ہو جائے میں نے تمہاری تعلیم و تربیت کیلئے قدم اٹھایا ہے۔

محمد باقر بن محمد تقى مجلسى، بحار الأنوار، ج 1، ص 223

اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ میں آ رہا ہے کہ جوانی زندگی کا ایک ایسا موڑ  ہے جہاں انسان کو اپنی پوری زندگی کے سرمایہ کو جمع کرنا ہے جس کے بارے میں امام صادق (ع) فرما رہے ہیں:

لَسْتُ‏ أُحِبُ‏ أَنْ‏ أَرَى‏ الشَّابَ‏ مِنْكُمْ إِلَّا غَادِياً فِي حَالَيْنِ إِمَّا عَالِماً أَوْ مُتَعَلِّماً فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَرَّطَ فَإِنْ فَرَّطَ ضَيَّعَ فَإِنْ ضَيَّعَ أَثِمَ وَ إِنْ أَثِمَ سَكَنَ النَّارَ وَ الَّذِي بَعَثَ مُحَمَّداً بِالْحَقِّ

میں دوست نہیں رکھتا کہ تمہارے جوانوں کو دو حالتوں سے خالی دیکھوں، یا وہ عالم ہوں یا طالب علم، اگر جوان یہ کام نہ کرے تو اس نے کوتاہی کی اور اپنے آپ کو برباد کیا اور اگر اس نے اپنے آپ کو برباد کیا تو اس نے گناہ کیا اور اگر گناہ کیا تو اسکا ٹھکانہ جہنم ہے خدا کے قسم جس نے محمد (ص) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا۔

محمد باقر مجلسى، بحار الأنوار، ، ج 1 ص 170

دینِ اسلام میں جوان اور جوانی:

اسلام آباؤ اجداد کی اندھی تقلید سے پھیلنے والا جامد نظام حیات نہیں بلکہ تحقیق و تجربے کی بنیاد پر پھیلتی ہوئی ارتقاءِ انسانیت کی علمی و فکری، تہذیبی و ثقافتی اور سیاسی و اجتماعی تحریک کا نام ہے۔ اس ہمہ جہتی تحریک کی نشو و نما میں جہاں انبیاء اکرام کے علم و فضل ، آئمہ اہلبیت کے عرفان امامت اور علماء کرام کی جد و جہد کا عمل دخل ہے، وہیں پر اسلامی جوانوں کے خون کے نذرانے بھی تاریخ اسلام کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ کار دنیا کو انجام دینے میں جوانی کو سنگ بنیاد کی حیثیت حاصل ہے ہی لیکن اسلامی شریعت میں بھی جوانی ہی کی عبادت کو بہترین عبادت کہا گیا ہے۔

اسی طرح احادیث اہل بیت میں سے ایک حدیث یہ بھی ہے کہ ایک جوان کے توبہ کرنے کا اجر حضرت یحیٰ ابن زکریا کی مانند ہے۔

مجموعہ ورام ج 2 ص 119

دین اسلام کے رشد و ارتقاء میں جوانوں کا کردار بنیادی اہمیّت کا حامل ہے۔ دعوتِ ذو العشیرہ سے لے کر میدان ِ غدیر تک اسلام کا پرچم ایک جوان ہی نے اٹھا رکھا ہے اور ساحلِ فرات سے لے کر میدان محشر تک اسلام کی حیاتِ ابدی کا پرچم بھی ایک جوان کے ہی کٹے ہوئے بازووں کے سہارے سے لہرا رہا ہے۔

تاریخ اسلام شاہد ہے کہ اسلام عزیز کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر دور کے اسلامی جوانوں نے بے دریغ قربانیاں دی ہیں۔

لغت میں لفظ جوانی:

عربی زبان میں کلمہ شباب جوانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس کا مطلب کسی چیز کا آغاز ہے اور جوان کو “فتیٰ ” کہا جاتا ہے۔

مجمع البحرین ج 1 ص 324

اردو زبان میں جوان ہونے کے زمانے کو جوانی کہا جاتا ہے اور لڑکپن کے دور سے نکلے ہوئے مرد یا عورت کو جوان کہا جاتا ہے۔ اسی طرح بہادر، دلیر اور شجاع کے لیے بھی کلمہ جوان استعمال کیا جاتا ہے۔

فیروز اللغات

اصطلاح میں لفظ جوانی:

ماہرین نفسیات کے مطابق جوانی:

جوانی اس زمانے کو کہتے ہیں جب انسان کی جسمانی توانائیاں اور ذہنی صلاحیتیں کمال تک پہنچتی ہیں۔

روان شناسی رشد ،ص 207

قرآن مجید میں جوان اور جوانی:

قرآن مجید نے نیک اور صالح جوانوں کو بطورِ نمونہ عمل بنی نوعِ انسان کے سامنے پیش کیا ہے۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق حضرت ابراہیم (ع) ایک بت شکن ، حضرت اسماعیل (ع) ایک صابر ، حضرت موسی (ع) ایک شجاع حضرت عیسی (ع) ایک نڈر اور حضرت یوسف (ع) ایک پاکدامن جوان ہیں۔

قرآن مجید نے اصحاب کہف کی اس طرح سے پہچان کروائی ہے:

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْناهُمْ هُدي،

ہم ان کا حال تم سے بالکل ٹھیک بیان کرتے ہیں ، وہ چند جوان تھے کہ اپنے سچّے پروردگار پر ایمان لائے تھے۔

سورہ کہف آیت 13

ایک جوان کی جوانی کو جن خصوصیات کا حامل ہونا چاہیے ان کے بارے میں قرآن مجید کی زبانی ہم حضرت لقمان کی وصیّتوں کو بطورِ خلاصہ یہاں نقل کر رہے ہیں:

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیّت کرتے ہوئے کہا:

يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

اے بیٹے شرک نہ کرنا بے شک شرک ظلمِ عظیم ہے۔

سورہ لقمان آیت 13

اسی طرح آپ نے یہ وصیّت بھی کی:

وَ اقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ 

میانہ روی سے چلو اور اپنی آواز کو دھیما رکھو۔

سورہ لقمان آیت 19

وَ لا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنّاسِ وَ لا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحاً إِنَّ اللّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتال فَخُور ،

لوگوں کے سامنے اپنا منہ غرور سے نہ پھلانا اور زمین پر اکڑ کر نہ چلنا ، بے شک اللہ کسی بھی مغرور کو پسند نہیں کرتا۔

سورہ لقمان آیت 18

آپ نے اپنے بیٹے کو یہ وصیّت بھی کی:

يا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلاةَ وَ أْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلي ما أَصابَكَ إِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ،

اے بیٹے نماز قائم کرنا نیکیوں کا حکم دینا، برائیوں سے روکنا، مصیبتوں پر صبر کرنا بے شک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔

سورہ لقمان آیت 17

آپ نے خوف خدا اور ذکرِ خدا کے لیے اہنے بیٹے کو وصیّت کی:

يا بُنَيَّ إِنَّها إِنْ تَكُ مِثْقالَ حَبَّة مِنْ خَرْدَل فَتَكُنْ فِي۔۔۔

اے بیٹے اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی عمل خواہ رائی کے دانے کے برابر بھی ہو اور پھر وہ کسی سخت پتھر کے اندر یا آسمانوں میں یا زمین میں [چھپا] ہو تو بھی خدا اسے قیامت کے دن حاضر کر دے گا۔

سورہ لقمان آیت 16

رسول اکرم (ص) کی احادیث میں جوان اور جوانی:

حضور اکرم (ص) کا ارشاد مبارک ہے کہ میری امت میں سے بہترین افراد وہ ہیں جنہوں نے اپنی جوانی خدا کے راستے میں بسر کی ہے اور اپنے نفس کو دنیا کی لذتوں سے روک کر آخرت کی یاد میں مشغول کیے رکھا ہے۔

مجموعۃ و رام،ج 2،ص 123

ایک اور حدیث میں حضور اکرم (ص) نے فرمایا ہے:

جو شخص جوانی میں خداوند کی عبادت کو خوش اسلوبی سے انجام دیتا ہے، خداوند اسے بڑھاپے میں حکمت عطا کرتا ہے۔

اعلام الدین ص 296

اسی طرح ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

اے جوانو اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرو، آگاہ ہو جاؤ کہ جو شخص بھی اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرے گا، خداوند اسے جنت عطا کرے گا۔

المعجم الاوسط، ج 7 ص 61

حضرت امام علی (ع) کی نگاہ میں جوان اور جوانی:

حضرت امام علی (ع) فرماتے ہیں:

جوان کا دل خالی زمین کی مانند ہے، آپ اس میں جو بات بھی ڈالیں وہ قبول کرے گا۔ پس اُسے ادب سکھائیں،اس سے پہلے کہ اس کا دل سخت ہو جائے۔

نہج البلاغہ خط نمبر 31

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ جوانی کے دو معانی ہیں۔

عام معنی  ۔ خاص معنی

عام معنی:

ایک عام معنی ہے جس کی رو سے ہر شخص لڑکپن کے بعد جوانی میں داخل ہو جاتا ہے اور 40 سے 45 سال کی عمر گزارنے کے بعد بڑھاپے میں قدم رکھ دیتا ہے۔

خاص معنی:

جوانی کا خاص معنی یہ ہے کہ انسان اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو قران و سنت اور حکمِ پروردگار کے مطابق مسلسل کھلنے اور نشو و نما پانے کا موقع دے۔

تاریخِ اسلام کےمثالی جوان:

یوں تو تاریخ اسلام مثالی جوانوں سے بھری پڑی ہے لیکن ہم یہاں پر چند جوانوں کا ذکر بطورِ نمونہ کر رہے ہیں:

1- حضرت امام علی (ع):

حضرت علی (ع) پورے عالم اسلام میں غیر متنازعہ شخصیت کے حامل ہیں۔ ہر کلمہ گو مسلمان رسول خدا (ص) کی محبت کے ساتھ ساتھ آپ کی محبت کا دم بھرتا ہے۔ مسلمانوں کی آپ کے ساتھ اس والہانہ محبّت اور عقیدت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ نے آغاز جوانی سے ہی حضور اکرم کا ساتھ دیا اور دین اسلام کے راستے میں قربانیاں دیں۔

2- حضرت مصعب ابن عمیر:

مصعب ابن عمیر کا شمار حضور اکرم (ص) پر پہلے پہل ایمان لانے والوں میں ہوتا ہے۔ آپ ایک خوبصورت جوان تھے اور اسلام لانے کے بعد آپ نے دین اسلام کی خاطر بہت زیادہ مشکلات برداشت کیں۔

اہل مدینہ نے جب حضور اکرم کے ہاتھوں پہلی بیعت عقبہ کی تو حضور اکرم نے مصعب ابن عمیر کو اہل مدینہ کے ہمراہ مدینے میں جا کر تبلیغ دین کرنے کی ذمہ داری سونپی۔

مصعب ابن عمیر نے مدینے میں جا کر اپنی جد و جہد ، بصیرت، علم و دانش اور حسنِ تدبیر کے باعث بہت جلد حضور اکرم (ص) کی مدینے آمد کا راستہ ہموار کیا۔

جنگ احد کے دلیر علمبرداروں میں سے ایک آپ بھی تھے اور اسی جنگ میں جام شہادت نوش کیا۔

سیرہ ابن ھشام ج 2 ص 290

3- عبداللہ ابن مسعود:

عبد اللہ ابن مسعود دین اسلام قبول کرنے والے چھٹے فرد ہیں۔ قبول اسلام کے وقت آپ بالکل نوجوان تھے۔ آپ قبول اسلام کے ساتھ ہی حضور اکرم (ص) کی خدمت میں تعلیم قرآن کے سلسلے میں حاضر ہوئے اور ساری زندگی قرآن و حدیث کی نشر و اشاعت میں مصروف رہے۔

آپ ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ کرنے والوں میں بھی شامل تھے اور آپ نے تمام غزوات میں بھی شرکت کی۔

جوان در جہاد و شہادت از غلام علی پارسا ص 70

4- عتاب ابن اسید:

ایک بیس سالہ جوان جو مکّی مسلمانوں کا پہلا سربراہ بنا۔ فتح مکہ کے فورا بعد غزوہ حنین پیش آیا، ایّام حج نزدیک تھے اور یہ پہلا سال تھا کہ مکّے پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی تھی۔

حضور اکرم (ص) کو بہت سارے حکومتی امور نمٹانے کے لیے اسلامی دار الحکومت مدینے کی طرف پلٹنا پڑا۔

آپ نے اس کھٹن وقت میں مکّے کی سربراہی ایک 20 سالہ جوان عتاب ابن اسید کو سونپی۔

5- اسامہ ابن زید:

حضور اکرم (ص) نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک 18 سالہ جوان اسامہ ابن زید کو اسلامی لشکر کی سربراہی سونپی۔ رسول خدا (ص) نے مہاجرین اور انصار سب کو اسامہ ابن زید کے لشکر میں شامل ہونے اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم دیا۔

جعفریان رسول، تاریخ سیاسی اسلام، ج 1 ،ص 226

6- حنظلہ غسیل الملائکہ

حنظلہ کا اصلی نام حنظلہ ابن ابی عامر تھا۔ آپ غسیل الملائکہ کے نام سے مشہور ہوئے۔

آپ کا باپ بد نامِ زمانہ کافر تھا اور اسلام دشمنی میں ہمیشہ پیش پیش رہتا تھا۔ جس روز جنگِ احد قرار پائی اس روز حنظلہ کی شادی تھی۔

حنظلہ کا سُسر منافقین کا سردار عبد اللہ ابن ابی تھا۔ حنظلہ نے حضور اکرم سے ایک دن کی اجازت لے کر شادی کی اور پھر جنگِ احد میں اپنے باپ کے خلاف لشکر اسلام کی طرف سے لڑ کر جام شہادت نوش کیا۔

حضور اکرم نے آپ کی شہادت کے موقع پر فرمایا کہ فرشتوں کو میں نے دیکھا کے وہ حنظلہ کو آب شفاف سے غسل دے رہے تھے۔ اس کے بعد حنظلہ غسیل الملائکہ کے نام سے مشہور ہوئے۔

سبحانی جعفر، فروغ ابدیت ج 2 ،ص 40

کربلا میں جوان:

61 ہجری میں جب اسلام کو ملوکیت کے پھانسی گھاٹ پر موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کی گئی تو اسلام کے حقیقی وارث حسین ابن علی (ع) نے بقاء اسلام کے لیے قیام کیا، مدینے سے خروج کے وقت ایک مرتبہ آپ پر چند لمحوں کے لیے غنودگی طاری ہو گئی۔ جب آپ بیدار ہوئے تو آپ کے 18 سالہ جوان فرزند علی اکبر نے آگے بڑھ کر آپ سے غنودگی طاری ہونے کا ماجرا پوچھا تو آپ نے فرمایا:

اس ہلکی سی نیند کے دوران میں نے عالم خواب میں ایک منادی کو ندا دیتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارا یہ قافلہ بخیریت واپس نہیں آئے گا۔

تو شہزادہ علی اکبر نے فورا پوچھا بابا جان: کیا ہم حق پر نہیں ہیں۔

جواب ملا ہاں ہم حق پر ہیں۔ جب یہ سنا تو شہزادے نے ایک ایمان افروز جملہ کہا:

بابا جب ہم حق پر ہیں تو پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم موت پر جا پڑیں یا موت ہم پر آ پڑے۔

جوان علی اکبر (ع) کے اس ایک جملے نے تحریک کربلا کی رگوں میں وہ حرارت پھونکی ہے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود بادشاہوں کے مظالم، مورخین کی خیانتیں اور متعصّبین کا اتحاد تحریک کربلا کو سرد نہیں کر سکا ، آج بھی جب مسلمان جوان سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ہر طرف یہی صدا گونجتی ہے:

ہماری یہ جوانیاں ۔۔۔حسین کی قربانیاں

امام حسین (ع) مدینے سے مکے کی طرف نکلے پھر مکے سے کوفے کے قریب تک پہنچے۔ اس سارے سفر میں چھ مہینے کا عرصہ لگا۔ ان چھ مہینوں میں امام حسین (ع) نے دنیا کو یزید کی ان گنت کا رستانیوں بدعات اور انحرفات سے آگاہ کیا اور مشہور یہی ہے کہ پوری کائنات میں سے یزید کے خلاف فقط 72 آدمیوں نے امام حسین (ع) کی ہمراہی کا شرف حاصل کیا۔

ان 72 میں سے 17 افراد آل ابی طالب میں سے تھے اور یہ سترہ کے سترہ افراد یا نوجوان تھے یا پھر کڑیل جوان تھے۔ دو خود امام حسین (ع) کے فرزند علی اکبر (ع) اور علی اصغر (ع) تھے۔

تین امام حسن (ع) کے فرزند قاسم، عبد اللہ اور ابوبکر تھے۔ پانچ امام حسین (ع) کے بھائی تھے۔

عباس، عبد اللہ، جعفر، عثمان، محمد ابن علی اور دو بیٹے عبد اللہ ابن جعفر کے تھے۔ عون و محمد اور پانچ افراد اولاد عقیل میں سے تھے۔ جعفر ابن عقیل، عبد الرحمٰن ابن عقیل، مسلم ابن عقیل اور مسلم ابن عقیل کے دو بیٹے عبد اللہ اور محمد اور ایک محمد ابن ابی سعید ابن ابی عقیل تھے۔

ان 17 افراد کے نام زیارت ناحیہ میں ملتے ہیں۔ ان کے علاوہ امام حسین (ع) کے دیگر تقریبا پچپن جانثاروں میں سے بھی بیشتر جوان تھے۔ جو بچے تھے وہ بھی جوانوں کی طرح اپنا سینہ تان کر امام کے سامنے چلتے تھے تا کہ وہ جوان نظر آئے اور ان کا بچپنہ ان کے شوق شہادت میں حائل نہ ہو۔ اسی طرح عمر رسیدہ افراد تھے انہوں نے بھی اپنی ضعیفی کو اپنے جذبہ شہادت پر غالب نہیں آنے دیا اور وہ میدان عمل میں جوانوں کے شانہ بشانہ رہے۔

کربلا کے جوانوں نے رہتی دنیا تک کے اسلامی جوانوں کے لیے ایسا اسوہ حسنہ چھوڑا ہے کہ اب ملت اسلامیہ کے جوان باطل قوتوں کے ہاتھوں پاش پاش تو ہو سکتے ہیں لیکن باطل کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہو سکتے۔ کربلا کے جوان ملت اسلامیہ کے جوانوں کے لیے نمونہ عمل ہیں۔

اگر کوئی نوجوان یتیم ہے لیکن حق کی خاطر قربان ہونا چاہتا ہے تو امام حسن (ع) کے یتیم کی سیرت کو سامنے رکھے۔ اگر کسی جوان کو خدا توفیق دے کر وہ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہونے کے باوجود امام عصر (ع) کی صدا پہ لبیک کہنے کا جذبہ رکھتا ہو تو وہ امام حسین (ع) کے علی اکبر (ع) کی سیرت سامنے رکھے اور اگر کوئی جوان بہت شجاع ہے اور اپنی شجاعت کو مشیت معصوم کے تابع رکھنا چاہتا ہے تو عباس جری کے اسوہ حسنہ کو سامنے رکھے۔

اگر کوئی جوان کسی شاہی خاندان کے ناز و نعم کا حسین شاہکار ہے اور اس کے آنسووں سے کائنات کی نزاکتیں دم لیتی ہیں تو اسے سید سجاد (ع) کے سفر شام کا مطالعہ کرنا چاہیے اور اگر کوئی اپنے حسب و نسب میں بہت اعلیٰ ہے تو اس جوان کو عون و محمد کے نقشِ پا کی پیروی کرنی چاہیے۔ اگر کسی جوان کو اپنے زور بازو پہ بہت ناز ہے تو مجلس عزا میں آ کر فرات کے کنارے کٹنے والے دو بازوں کی داستان ضرور سنا کرے۔

اگر کوئی جوان حق کی خاطر اپنے سینے پر تمغہ شہادت سجانا چاہتا ہے تو علماء سے علی اکبر کے سینے میں ٹوٹی ہوئی سناں کا حال ضرور پوچھا کرے۔ اگر کوئی جوان امام زمان (عج) کے ساتھ وفاداری کا دم بھرتا ہے تو اسے چاہیے کہ شب عاشور بجھے ہوئے چراغ کی کسوٹی پر خود کو پرکھتا رہے۔

نتیجہ:

ہمیں جوانوں کی تعلیم و تربیّت کے سلسلے میں کبھی بھی مایوس اور نا امید نہیں ہونا چاہیے چونکہ جس قوم کے جوان عباس نامور کے علم کو تھامے ہوئے ہوں اس قوم کو لشکر فرنگی شکست نہیں دے سکتا اور جس قوم کا ورثہ پیاس بھرا مشکیزہ ہو اس قوم کے جوانوں کو دنیا کی سازشیں گمراہ اور بے دین نہیں بنا سکتیں۔

جوانوں کے نام امام علی (ع) کی وصیتیں:

1- تقویٰ اور پاکدامنی:

اپنے پیارے فرزند امام حسن (ع) کو امام علی (ع) کی اہم ترین نصیحت تقویٰ ٔالٰہی تھی۔ آپ نے فرمایا:

و اَعَلَمْ یابُنَیَّ اِنَّ اَحَبَّ ما انتَ آخِذ بِہِ اِلَّی مِن وَصیَّتی تَقوَی ﷲ،

بیٹا میری وہ بہترین وصیت جسے تمہیں تھام کر رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ تقویٰ ٔ الٰہی اختیار کرو۔

نہج البلاغہ ، خط نمبر 31

2- جوانی میں حاصل مواقع:

بے شک کامیابی و کامرانی کے متعدد اسباب و وجوہات میں سے ایک سبب اور وجہ سازگار اور موافق حالات اور مواقع سے ٹھیک ٹھیک فائدہ اٹھانا ہے۔ جوانی کا شمار ایسے ہی مناسب موقعوں میں ہوتا ہے۔

روحانی صلاحیت اور جسمانی قوت وہ قیمتی سرمایہ ہے جسے خداوند جوان کے اختیار میں دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیشوایانِ دین نے ہمیشہ جوانی کے موقع سے استفادے کی تاکید کی ہے۔ اس بارے میں امام علی (ع) نے فرمایا ہے :

بادِر ِالفُرصَةَ قَبلَ اَن تکُونَ غُصَّةَ ،

فرصت سے فائدہ اٹھاؤ قبل اسکے کہ اس کے ہاتھ سے نکل جانے پر رنج و اندوہ کا سامنا کرنا پڑے۔

نہج البلاغہ ، خط نمبر 31

آپ (ع) ہی نے آیہ شریفہ :

لاَ تَنَسَ نَصِیبَکَ مِنَ الدُّنْیَا،

دنیا میں اپنے حصے کو فراموش نہ کرو۔

سورۂ قصص آیت 77 کی تفسیر میں فرمایا:

لاَ تَنسَ صِحتَّکَ وَ قُوَّتک وَفَراغکَ و شَبابَک وَ نَشاطَکَ اَن تَطلُبَ بِھا الاخرَةَ ،

اپنی صحت طاقت فراغت جوانی اور نشاط و بشاشت کے دنوں میں غفلت نہ برتو بلکہ ان ایام سے آخرت کیلئے فائدہ اٹھاؤ۔

بحار الانوار ج 68 ص 177

جوانی کے بارے میں سوال ہو گا:

جوانی وہ عظیم نعمت ہے جس کے بارے میں روزِ قیامت سوال کیا جائے گا۔ ایک روایت میں رسول گرامی (ص) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:

قیامت کے دن بندگانِ خدا میں سے کوئی بھی اس وقت تک ایک بھی قدم آگے نہ بڑھا سکے گا جب تک اس سے ان چار چیزوں کے بارے میں باز پرس نہ کر لی جائے:

عمر کے بارے میں کہ اسے کس راہ میں بسر کیا،

جوانی کے بارے میں کہ اسے کیسے گزارا،

مال کے بارے میں کہ اسے کیسے کمایا اور کہاں خرچ کیا،

اور میرے اہل بیت (ع) سے محبت اور دوستی کے بارے میں۔

بحار الانوار، ج 74 ص 160

3- خود سازی:

دورِ جوانی اپنی تربیت اور تعمیر ذات کا بہترین زمانہ ہے کیونکہ جوان کا صفحۂ دل سادہ ہوتا ہے، اس پر ابھی برائیوں اور نا پسندیدہ خصلتوں نے اپنا رنگ نہیں جمایا ہوتا، جوان میں خرابیاں اور بری عادتیں ابھی پختہ نہیں ہوئی ہوتیں اور اس کے دل میں جلتی ہوئی فطرت کی شمع ابھی گل نہیں ہوئی ہوتی۔

امام علی (ع) اپنے فرزند حسن مجتبی (ع)  سے یوں فرماتے ہیں:

اِنَّما قَلبُ الحَدَث کالأرض الخالیة ما اُلقیَ فیھا مِن شَیئٍ قَبِلَتُہ فَبادَرتُکَ بِالأدب قَبلَ اَنْ یَقسُوا قَلبک و یَشَتَغِلَ لُبُّکَ،

بے شک نوجوان کا دل خالی زمین کی مانند ہوتا ہے، جو چیز اس میں ڈالی جائے اسے قبول کر لیتا ہے۔ لہٰذا اس سے قبل کہ تمہارا دل سخت ہو جائے اور تمہارا ذہن دوسری باتوں میں مشغول ہو جائے میں نے تمہاری تعلیم و تربیت کیلئے قدم اٹھایا ہے۔

نہج البلاغہ، خط نمبر 31

جوانوں کو امام علی (ع) کے اس انتباہ پر سنجیدگی سے توجہ دینا چاہیے:

غالِبِ الشَھوةَ قبلَ قُوةِّ ضَراوَتِھا فَانَّھا اِن قَویَت مَلکَتکَ ولَم تَقدِر علی مُقاوَمَتَھا  ،

نفسانی خواہشات کے خود سر اور شدید ہونے سے پہلے ان سے مقابلہ کرو کیونکہ اگر نفسانی خواہشات خود سر اور قوی ہو جائیں تو تم پر حکمران بن جائیں گی اور جہاں چاہیں گی تمہیں دھکیل کر لے جائیں گی اور تم میں ان سے مقابلے کی طاقت و قوت نہ رہے گی۔

تعلیم و تربیت در اسلام، ص 79

4- عزتِ نفس اور بزرگواری:

جوانوں کو امام علی (ع) کی ایک اور وصیت یہ ہے کہ وہ اپنے اندر عزتِ نفس اور بزرگواری کی روح پیدا کریں۔ اس سلسلے میں آپ  فرماتے ہیں:

أکرِم نَفسک عَن کُلِّ دَنیَّةٍ وَاِن ساقَتکَ اِلی الرَّغائب فَاِنَّک لَن تَعتاضَ بِما تَبذُلُ مِن نَفِسک عِوضاً ولا تکُن عبدَ غَیرک و قد جعلکَ ﷲ حُراً،

اپنے نفس کو ہر قسم کی بے مائیگی اور پستی سے بلند تر رکھو خواہ یہ پست و حقیر ہونا تمہیں پسندیدہ اشیاء تک پہنچا ہی کیوں نہ دے کیونکہ تم جو عزتِ نفس گنواؤ گے اسکا کوئی بدل نہیں مل سکتا اور خبر دار! کسی کے غلام نہ بن جانا خداوند نے تمہیں آزاد قرار دیا ہے۔

نہج البلاغہ، خط نمبر 31

عزتِ نفس درجِ ذیل امور سے وابستہ ہوا کرتی ہے :

الف: گناہ سے پرہیز:

وہ چیزیں جو انسان کی عزت نفس کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں ان میں سے ایک چیز ارتکاب گناہ ہے۔ گناہ کی آلودگی سے بچ کر انسان عزت نفس حاصل کر سکتا ہے۔

امام علی (ع) فرماتے ہیں:

مَن کَرُمَت علیہ نَفسُہُ لَم یُھِھا بِالْمعصِیَة ،

جو شخص اپنی عزتِ نفس کا قائل ہو، وہ ارتکابِ گناہ کے ذریعے اسے پست اور حقیر نہیں کرتا۔

غرر الحکم، ج 5 ص 35

ب: جذبہ بے نیازی:

دوسروں کے مال پر نظر رکھنا اور انتہائی مجبوری کے سوا کسی سے مدد و اعانت کی درخواست کرنا، عزت نفس کو مجروح کرتا ہے۔

امام علی (ع) فرماتے ہیں:

المسئلةُ طَوقُ المَذَلَّةِ تَسلُبُ العزیز عِزَّہُ والحسیب حَسَبَہ،

لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرنا ذلت کا ایسا طوق ہے جو صاحبان عزت سے ان کی عزت اور صاحبان شرافت سے ان کی شرافت سلب کر لیتا ہے۔

غرر الحکم، ج 2 ص 145

ج: درست طرزِ فکر:

عزتِ نفس بڑی حد تک اس بات سے وابستہ ہوتی ہے کہ خود انسان اپنے آپ کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ ایسا شخص جو اپنے آپ کو کمزور اور ناتواں ظاہر کرتا ہے، لوگ بھی اسے ذلیل اور حقیر سمجھتے ہیں، لہٰذا امیر المومنین علی (ع)  کا ارشاد ہے:

الرَّجلُ حیثُ اختارَ لنفسہ اِن صانَھا ارتفعَت وَانِ ابتَذَ لَھا اتَّضَعَت،

ہر انسان کی حیثیت اور وقعت اسکے اپنے اختیار کردہ طرزِ عمل سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے نفس کو پستی اور ذلت سے بچا کر رکھے تو ارفع اور بلند انسانی مقام پر فائز ہو جاتا ہے اور اگراپنی معنوی اور روحانی عزت ترک کر دے تو پستی اور ذلت کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔

غرر الحکم، ج 2 ص 77

د: ذلت آمیز گفتار اور کردار سے پرہیز:

ایسا شخص جو عزت نفس کا متمنی ہو، اسے چاہیے کہ ہر ایسے قول یا عمل سے اجتناب کرے جو اسکے ضعف اور ناتوانی کو ظاہر کرتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے خوشامد اور چاپلوسی حالاتِ زمانے کی شکایت لوگوں کے سامنے اپنی مشکلات کے اظہار، بے جا خود ستائی شیخی بگھارنے اور حتی عاجزی و انکساری کے بے موقع  اظہار سے بھی منع کیا ہے۔

کسی مسلمان کو اس بات کا حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی عزت و شرافت اور مردانگی کے منافی خوشامد اور چاپلوسی کے ذریعے خود اپنی تذلیل کرے۔

امام علی (ع) فرماتے ہیں:

کَثَرةُ الثَّناء مَلَق یُحِدثُ الزَّھوَ وَ یُدِنی مِنَ العِزَّةِ ،

کسی کی حد سے زیادہ تعریف و تحسین، چاپلوسی اور خوشامد ہے کہ جو ایک طرف تو مخاطب میں نخوت و تکبر پیدا کرتی ہے اور دوسری طرف (خطاب کرنے والے میں) عزت نفس کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

غرر الحکم، ج 4 ص 595

اپنے حالات کا رونا رونا اور اپنی ذاتی مشکلات اور مسائل لوگوں کے سامنے بیان کرنا، عزت نفس پر کاری ضرب لگاتا ہے:

امام علی (ع) فرماتے ہیں:

رَضِیَ بِالذُّل مَن کَشَفَ ضُرَّہُ لِغَبِرِہ ،

ایسا شخص جو دوسروں کے سامنے اپنی بد حالی اور مشکلات کا اظہار کرتا ہے، وہ در حقیقت اپنی ذلت اور حقارت کو پسند کرتا ہے۔

غرر الحکم، ج 4 ص 595

5- ضمیر کی آواز:

جوانوں کو امیر المومنین علی (ع)  کی ایک وصیت یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ تعلقات میں اپنے ضمیر کی صدا کو میزان و پیمانہ قرار دیں۔ آپ نے اپنے فرزند کو مخاطب کر کے فرمایا:

یا بُنَیَّ اجعَلْ نَفسکَ میزاناً فیما بَینک و َ بَینَ غَیرِک،

بیٹا ! اپنے اور دوسروں کے درمیان اپنے نفس کو معیار و میزان قرار دو۔

نہج البلاغہ، خط 31

اس اہم اخلاقی اصول سے بے توجہی دوستانہ تعلقات میں دراڑیں پڑ جانے اور ان کے خاتمے پر منتہی ہوتی ہے۔ جبکہ اس اصول کی پابندی رشتہ دوستی کی مضبوطی اور معاشرتی روابط کی صحت کی ضامن ہے۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ : ایک شخص رسول کریم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا :

میں اپنے تمام فرائض و واجبات بخوبی انجام دیتا ہوں لیکن ایک گناہ ایسا ہے جو باوجود کوشش کے میں نہیں چھوڑ پاتا اور وہ ہے اجنبی خواتین سے ناجائز مراسم۔

اس شخص کی یہ بات سن کر اصحاب رسول سخت غضبناک ہوئے۔ یہ دیکھ کر آنحضرت نے ان سے فرمایا : تم لوگ ایک طرف رہو، میں جانتا ہوں کہ اس سے کیا بات کرنی ہے۔ پھر آپ (ص) نے فرمایا : کیا تمہاری ماں بہن  وغیرہ ہیں ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں۔ رسول خدا نے فرمایا : کیا تم پسند کرو گے کہ دوسرے لوگ تمہارے گھر کی خواتین سے ایسے تعلقات رکھیں ؟ اس نے عرض کیا : بالکل نہیں۔ آنحضرت نے فرمایا : پس پھر تم کیسے اس ناجائز عمل کے مرتکب ہوتے ہو ؟ وہ شخص شرم سے پانی پانی ہو گیا اور سر جھکا کر بولا :

 اب میں عہد کرتا ہوں کہ اس عمل کا ارتکاب نہیں کروں گا۔

ہر مسلمان کا فرض ہے کہ لوگوں سے تعلقات اور معاشرتی روابط کے دوران اپنی اس باطنی آواز کی پیروی کرے اور اپنے ضمیر کے تقاضوں کے مطابق عمل کرے۔

امام سجاد (ع) نے فرمایا ہے: لوگوں کا حق تم پر یہ ہے کہ انہیں اذیت و آزار پہنچانے سے پرہیز کرو اور ان کے لیے وہی چیز پسند کرو جسے اپنے لیے پسند کرتے ہو اور اس چیز کو ناپسند کرو جو تمہیں اپنے لیے ناپسند ہو۔

بحار الانوار، ج 71 ص 9

6- تجربہ اندوزی:

امام علی (ع) نے اپنی وصیتوں میں دوسروں کے تجربات سے استفادے پر بھی تاکید کی ہے۔ اس سلسلے میں آپ نے فرمایا ہے:

اعرض علیہ اخبار الماضین َ وذَکِّرہُ اصابَ مَن کان قَبلَکَ منِ الاوّلین و سرِفی دیارھِم و آثارھم فاَنظر فیما فَعَلوا وعَمّا انَتقَلُو او اَینَ حَلُّو او نَزلَوا ،

گزرے ہوئے لوگوں کے حالات (اپنے دل کے سامنے) پیش کرتے رہنا اپنے اور پہلے گزر جانے والوں پر پڑنے والے مصائب کو اپنی یاد میں لاتے رہنا ان لوگوں کے دیار و آثار کی سیر کرتے رہنا اور یہ دیکھتے رہنا کہ ان لوگوں نے کیا کچھ کیا اور وہ کہاں سے کہاں چلے گئے ہیں کہاں وارد ہوئے ہیں اور کہاں ڈیرہ ڈالا ہے۔

نہج البلاغہ، خط 31

گو کہ افراد معاشرہ میں سے ہر فرد آزمودہ کار لوگوں کی راہنمائی اور دوسروں کے تجربات سے استفادے کا محتاج ہے لیکن مختلف وجوہ کی بناء پر نسل جوان کو تاریخ سے شناسائی اور گزشتہ لوگوں کی سر گذشت سے حاصل ہونے والے تجربات کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ :

اولاً: جوان اپنی کم عمری کی بناء پر کچے اور تجربات سے عاری ذہن کا مالک ہوتا ہے، وہ زمانے کے سرد و گرم کا چشیدہ نہیں ہوتا، اپنی کم عمری ، والدین اور سرپرستوں کا سایہ سر پر سلامت ہونے کی بناء پر اسے مشکلات اور دشواریوں کا براہ راست بہت کم سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا اگر اس پر کوئی مشکل آ پڑے تو یہ اسکا سکون و قرار درہم برہم کر دیتی ہے اور اسے افسردہ اور بد مزاج بنا دیتی ہے۔

ثانیاً: موہوم تصورات جو دور جوانی کی خصوصیات میں سے ہیں بسا اوقات جوان کو حقیقت کی پہچان نہیں ہونے دیتے، جبکہ تجربہ وہم و خیال کے پردوں کو چاک کر دیتا ہے اور حقیقت کی سمت انسان کی راہنمائی کرتا ہے۔

امام علی (ع)  فرماتے ہیں:

التجارب علم مستفاد،

تجربات سود مند علم ہیں۔

غرر الحکم، ج 1 ص 260

ثالثاً: جوان علمی و فنی امور کے لیے ذہنی صلاحیتوں کا حامل ہونے اور مختلف قسم کی مہارتوں کے حصول کی قابلیت رکھنے کے باوجود زندگی گزارنے کا تجربہ نہ ہونے کی باعث معاشرتی شعور  سے بے بہرہ ہو تا ہے، لہٰذا اسکی طرف سے غیر سنجیدہ اور ضرر رساں فیصلوں اور اسکے دوسروں کے دام فریب میں گرفتار ہو جانے کا خطرہ رہتا ہے۔

امام علی (ع) فرماتے ہیں:

من قلّت تجربتہ خدع،

جس کا تجربہ کم ہو وہ دھوکا کھا جاتا ہے۔

غرر الحکم، ج 1 ص 185

تجربہ کار انسان سے غلطیوں کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

امام علی (ع) فرماتے ہیں:

من کثرت تجربتہ قلّت غرتہ،

جس کا تجربہ زیادہ ہو، وہ کم فریب کھاتا ہے۔

غرر الحکم، ج 5 ص 214

7- دوستی اور معاشرت کے آداب:

یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ دوستی کی بقاء اور دوام اسکی حدود اور رفاقت کے آداب  ملحوظ رکھنے سے وابستہ ہے۔ دوست بنانا آسان ہے لیکن دوستی کے بندھن کی حفاظت خاصا مشکل کام ہے۔

امام علی (ع) نے اپنے کلام میں دوستی کی پائیداری اور بقاء کا موجب بننے والے چند ظریف نکات کی جانب اشارہ کیا ہے، فرماتے ہیں:

ناتواں ترین شخص وہ ہے جو دوست نہ بنا سکے اور اس سے بھی زیادہ ناتواں وہ شخص ہے جو اپنا دوست کھو بیٹھے۔

بحار الانوار، ج 74 ص 278

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی