2019 December 12
کیا حضرت زہرا (س) کی شیخین (ابوبکر و عمر) پر نفرین (بد دعا) کرنے کی روایت کی سند صحیح (معتبر) ہے ؟
مندرجات: ١٧٩٩ تاریخ اشاعت: ٠٩ May ٢٠١٩ - ١٨:٣٠ مشاہدات: 195
سوال و جواب » فاطمہ زهرا
جدید
کیا حضرت زہرا (س) کی شیخین (ابوبکر و عمر) پر نفرین (بد دعا) کرنے کی روایت کی سند صحیح (معتبر) ہے ؟

سوال:

کیا حضرت زہرا (س) کی شیخین (ابوبکر و عمر) پر نفرین (بد دعا) کرنے کی روایت کی سند صحیح (معتبر) ہے ؟

توضيح سؤال:

مہم اور مورد بحث مسائل میں سے ایک علمی مسئلہ، حضرت زہرا (س) کا ابوبکر اور عمر پر نفرین کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کتب اہل سنت میں کوئی روایت موجود ہے کہ حضرت زہرا (س) ابوبکر اور عمر پر قنوت میں نفرین کرتی تھیں ؟ اور کیا اس روایت کی سند صحیح و معتبر ہے ؟

مختصر جواب:

کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، حضرت زہرا (س) اپنے والد گرامی رسول خدا (ص) کی شہادت کے بعد، ابوبکر کے پاس گئیں اور فدک واپس کرنے کا مطالبہ کیا کہ جسے ابوبکر نے زبردستی ان سے چھینا تھا، لیکن ابوبکر نے فدک واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ ابوبکر کے اس غاصبانہ انکار نے حضرت زہرا (س) کو دلی اور روحی طور پر بہت صدمہ پہنچایا کہ جس سے وہ ابوبکر پر غصہ کر کے سخت ناراض ہو گئیں۔

بخاری و مسلم نے اسی حد تک روایت نقل کی ہے، لیکن اہل سنت کی دوسری معتبر کتب جیسے «انساب الاشراف» بلاذری اور «السقيفۃ» جوہری میں نقل ہوا ہے کہ حضرت صديقہ طاہره صلوات الله و سلامہ عليہا نے واضح فرمایا:

و الله لأدعون الله عليك،

خدا کی قسم میں تمہارے لیے بد دعا کروں گی۔

حضرت زہرا سلام الله عليہا یہ کہنے کے بعد روتی ہوئیں وہاں سے چلی گئیں اور حتی مرتے وقت وصیت کی کہ امیر المؤمنین علی (ع) انکے کفن و دفن کے تمام مراسم میں ابوبکر اور عمر کو شرکت کی اجازت بالکل نہ دیں۔

لیکن ابن قتیبہ دینوری کی روایت کے مطابق، حضرت زہرا (س) کا ان دونوں پر نفرین کرنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ابوبکر اور عمر حضرت زہرا (س) کے گھر انکی عیادت کرنے آئے تھے کہ وہ دونوں امیر المؤمنین علی (ع) کو واسطہ قرار دے کر حضرت زہرا (س) سے ملنے کے لیے آئے تھے، لیکن حضرت زہرا (س) نے ان دونوں کو دیکھتے ہی ان سے منہ موڑ لیا۔ ابوبکر کے بات کرنے کے بعد حضرت زہرا سلام الله علیہا نے اس سے اقرار لینے کے بعد کہ اس نے روایت:

«رضا فاطمة من رضاي و سخط فاطمة من سخطي فمن أحب فاطمة ابنتي فقد أحبني و من أرضى فاطمة فقد أرضاني و من أسخط فاطمة فقد أسخطني» 

کو رسول خدا سے سنا تھا، ان دونوں سے فرمایا: میں خداوند اور اسکے ملائکہ کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے غصہ دلایا ہے اور میں رسول خدا سے تم دونوں کی شکایت کروں گی اور پھر فرمایا:

«و الله لأدعون الله عليك في كل صلاة أصليها»،

خدا کی قسم بے شک میں اپنی ہر نماز میں تمہارے لیے بد دعا کروں گی۔

تفصیلی جواب:

وہ روایات کہ جنکو سوال میں بیان کیا گیا ہے، انکے معنی و مضمون کو اہل سنت کی کتب میں مختلف سند کے ساتھ نقل کیا گیا ہے:

روايت اول: نقل ابن قتيبہ از عبد الله ابن عبد الرحمن انصاری:

ابن قتيبہ نے كتاب الامامة و السياسة میں سقيفہ کے ماجرا  کو مستقل عنوان «ذكر السقيفة و ما جرى فيها من القول» کے ساتھ ذکر کیا ہے اور پھر اس طولانی روایت کو اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

و حدثنا قال و حدثنا ابن عفير عن أبي عون عن عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري رضي الله عنه أن النبي عليه الصلاة والسلام لما قبض اجتمعت الأنصار رضي الله عنهم إلى سعد بن عبادة.

عبد الرحمن انصاری کہتا ہے: جب رسول خدا دنیا سے گئے تو انصار سعد ابن عبادہ کے پاس اکٹھے ہو گئے۔

ابتدائے روایت سے لے کر یہاں تک، انصار کے آپس میں اختلاف کرنے، اور انکے سعد ابن عبادہ کے پاس اکٹھے ہونے، بعض مہاجرین کے ابوبکر کی بیعت کرنے، امیر المؤمنین اور بنی ہاشم کے بیعت نہ کرنے، بیت وحی پر حملہ کرنے، حضرت زہرا کی حرمت پامال کرنے اور امیر المؤمنین کو زبردستی مسجد نبوی میں لے جانے والے تمام حوادث کو تفصیل سے نقل کیا ہے، جب یہاں پہنچتا ہے کہ عمر نے ابوبکر سے کہا:

انطلق بنا إلى فاطمة فأنا قد أغضبناها فانطلقا جميعا فاستأذنا على فاطمة فلم تأذن لهما فأتيا عليا فكلماه فأدخلهما عليها فلما قعد عندها حولت وجهها إلى الحائط فسلما عليها فلم ترد عليهما السلام فتكلم أبو بكر فقال يا حبيبة رسول الله و الله إن قرابة رسول الله أحب إلي من قرابتي و إنك لأحب إلى من عائشة ابنتي و لوددت يوم مات أبوك أني مت و لا أبقى بعده أفتراني أعرفك و أعرف فضلك و شرفك و أمنعك حقك و ميراثك من رسول الله إلا أني سمعت أباك رسول الله يقول (لا نورث ما تركنا فهو صدقة) فقالت أرأيتكما إن حدثتكما حديثا عن رسول الله تعرفانه و تفعلان به قالا نعم.

فقالت نشدتكما الله ألم تسمعا رسول الله يقول (رضا فاطمة من رضاي وسخط فاطمة من سخطي فمن أحب فاطمة ابنتي فقد أحبني و من أرضى فاطمة فقد أرضاني ومن أسخط فاطمة فقد أسخطني) قالا نعم سمعناه من رسول الله قالت فإني أشهد الله و ملائكته أنكما أسخطتماني وما أرضيتماني و لئن لقيت النبي لأشكونكما إليه فقال أبو بكر أنا عائذ بالله تعالى من سخطه و سخطك يا فاطمة ثم انتحب أبو بكر يبكي حتى كادت نفسه أن تزهق و هي تقول و الله لأدعون الله عليك في كل صلاة أصليها ثم خرج باكيا فاجتمع إليه الناس فقال لهم يبيت كل رجل منكم معانقا حليلته مسرورا بأهله و تركتموني و ما أنا فيه لا حاجة لي في بيعتكم أقيلوني بيعتي.

اکٹھے (حضرت) فاطمہ کے پاس چلتے ہیں کیونکہ ہم نے اسے غصہ دلایا ہے۔ وہ دونوں (ابوبکر و عمر) (حضرت) فاطمہ کے پاس آئے اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، لیکن بی بی نے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی۔ وہ دونوں (حضرت) علی (ع) کے پاس آئے اور انکو ساری بات بتائی۔ [حضرت علی] ان دونوں کو لے کر [حضرت فاطمہ] کے پاس آئے۔ جب وہ دونوں بی بی کے پاس بیٹھے تو بی بی نے اپنا منہ دیوار کی طرف کر لیا، ان دونوں نے بی بی کو سلام کیا لیکن بی بی نے سلام کا جواب نہ دیا۔ ابوبکر نے بات شروع کرتے ہوئے کہا: اے رسول خدا کی پیاری بیٹی ! خدا کی قسم رسول خدا کی قرابت میری نظر میں، میری قرابت سے محبوب تر ہے اور آپ میرے لیے میری بیٹی عائشہ سے بھی زیادہ محبوب ہیں، میں چاہتا تھا کہ آپکے والد کی وفات کے بعد میں بھی دنیا میں نہ رہتا اور میں بھی مر جاتا۔

آپکا خیال ہے کہ میں نے آپکو اور آپکی فضیلت کو جاننے کے باوجود بھی آپکو آپکے حق اور والد کی میراث سے منع کیا ہے، نہیں بلکہ میں آپکے والد سے ایک روایت کو سنا تھا کہ:

ہم انبیاء کوئی میراث نہیں چھوڑتے بلکہ جو چھوڑتے ہیں، وہ سب صدقہ ہوتا ہے۔

حضرت زہرا (س) نے فرمایا: تم دونوں کا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہارے لیے رسول خدا کی ایک روایت کو نقل کروں تو کیا تم اسے قبول کر لو گے اور اس پر عمل کرو گے ؟ دونوں نے کہا: ہاں،

بی بی نے فرمایا: میں تم کو خدا کی قسم دیتی ہوں کہ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول خدا نے فرمایا تھا: فاطمہ کا راضی ہونا، میرا راضی ہونا ہے اور فاطمہ کا غصہ کرنا، میرا غصہ کرنا ہے، پس جو بھی میری بیٹی فاطمہ سے محبت کرے گا تو اس نے مجھ سے محبت کی ہے اور جو بھی اسے خوش کرے گا تو اس نے مجھے خوش کیا ہے اور جس نے بھی اسے غصہ دلایا تو اس نے مجھے غصہ دلایا ہے۔

یہ سن کر دونوں نے کہا: ہاں، ہم نے اس روایت کو رسول خدا سے سنا ہے، پھر بی بی نے فرمایا: میں خداوند اور اسکے ملائکہ کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے غصہ دلایا ہے اور مجھے راضی نہیں کیا۔ میں جب بھی رسول خدا سے ملاقات کروں گی تو تم دونوں کی شکایت کروں گی۔ ابوبکر نے کہا: اے فاطمہ ! میں رسول خدا اور تیرے غصے سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں، پھر اس نے رونا شروع کر دیا، ایسے رویا کہ نزدیک تھا کہ اسکے بدن سے جان ہی نکل جاتی۔

پھر فاطمہ زہرا (س) نے فرمایا: خدا کی قسم میں اپنی ہر نماز میں تمہارے لیے بد دعا کروں گی، پھر ابوبکر روتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔ لوگ اسکے گرد جمع ہو گئے اور اس نے لوگوں سے کہا: آج رات تم لوگ اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ جا کر سکون کی نیند سو جاؤ اور خوش رہو اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو کہ مجھے تمہاری بیعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة الدينوري الوفاة: 276هـ. الإمامة و السياسة  ج 1 ص 17، دار النشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م، تحقيق: خليل المنصور.

روايت دوم نقل بلاذری (م279هـ) از موسی ابن عقبہ:

اہل سنت کے مشہور و معروف عالم بلاذری نے بھی حضرت زہرا (س) کے ابوبکر پر نفرین کرنے کی روایت کو ایک دوسری سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

الْمَدَائِنِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ مَوْلَى خُزَاعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ : دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ حِينَ بُويِعَ. فَقَالَتْ: إِنَّ أُمَّ أَيْمَنَ وَ رَبَاحًا يَشْهَدَانِ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَعْطَانِي فَدَكَ . فَقَالَ : وَ اللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَبِيكِ ، لَوَدِدْتُ أَنَّ الْقِيَامَةَ قَامَتْ يَوْمَ مَاتَ، وَ لَأَنْ تَفْتَقِرَ عَائِشَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَفْتَقِرِي، أَفَتَرَيْنِي أُعْطِي الأَسْوَدَ وَ الأَحْمَرَ حُقُوقَهُمْ وَ أَظْلِمُكِ وَ أَنْتِ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ إِنَّمَا كَانَ لِلْمُسْلِمِينَ ، فَحَمَّلَ مِنْهُ أَبُوكِ الرَّاجِلَ وَيُنْفِقُهُ فِي السَّبِيلِ، فَأَنَا إِلَيْهِ بِمَا وَلِيَهُ أَبُوكِ، قَالَتْ: وَ اللَّهِ لا أُكَلِّمُكَ قَالَ: وَ اللَّهِ لا أَهْجُرُكِ. قَالَتْ: وَ اللَّهِ لأَدْعُوَنَّ اللَّهَ عَلَيْكَ. قَالَ: لأَدْعُوَنَّ اللَّهَ لَكِ.

موسی ابن عقبہ کہتا ہے: حضرت فاطمہ (س) بیعت کے وقت ابوبکر کے پاس گئیں اور اس سے فرمایا: ام ایمن اور رباح میرے لیے گواہی دیتے ہیں کہ رسول خدا نے فدک مجھے بخشا ہے۔ ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم خداوند نے تیرے باپ کے علاوہ میرے نزدیک کسی کو محبوب تر خلق نہیں کیا، میں چاہتا تھا کہ اسکی رحلت کے دن، قیامت برپا ہو جاتی۔ اگر عائشہ محتاج اور فقیر ہو جائے تو یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے کہ تم محتاج اور فقیر ہو جاؤ۔

کیا آپکا یہ گمان ہے کہ میں سیاہ فام اور سرخ فام لوگوں کو تو دیتا ہوں اور آپکے حق میں ظلم کرتا ہوں ؟ حالانکہ تم رسول خدا کی بیٹی ہو۔ یہ مال، مسلمین کا ہے، (یعنی بیت المال اور سب کا ہے)، تمہارے والد اس مال کو جنگ کے لیے شتر سواروں پر راہ خدا میں خرچ کرتے تھے، میں بھی وہی کام انجام دوں گا کہ جسے تمہارے والد انجام دیتے تھے، (یعنی تمہیں کچھ نہیں دوں گا، حالانکہ تمہارا ہی یہ حق و مال ہے)، انھوں (حضرت زہرا) نے فرمایا: خدا کی قسم آج کے بعد میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔ ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم میں تو تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔ حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا: خدا کی قسم میں تمہارے لیے بد دعا کروں گی۔ ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم میں تمہارے لیے دعا کروں گا۔

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفى279هـ)، أنساب الأشراف، ج1، ص 79، تحقيق: سهيل زكار ورياض الزركلي. الناشر: دار الفكر – بيروت. الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.

نوٹ: خداوند کی خاص خاص لعنت ہو اس دعا پر اور اس دعا کرنے والے پر !!!

روايت سوم: نقل جوہری (م323هـ) از ہشام ابن محمد عن ابيہ:

جوہری نے نقل کیا ہے کہ حضرت زہرا (س) ابوبکر کے پاس آئیں لیکن اس نے فدک واپس کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پر حضرت زہرا (س) نے شدید غصے کی حالت میں فرمایا: خدا کی قسم میں تم پر نفرین کرتی ہوں:

و روى هشام بن محمد، عن أبيه قال: قالت فاطمة، لأبي بكر: إن أم أيمن تشهد لي أن رسول الله صلى الله عليه و آله، أعطاني فدك، فقال لها: يا ابنة رسول الله، و الله ما خلق الله خلقا أحب إلي من رسول الله صلى الله عليه و آله أبيك، و لوددت أن السماء وقعت على الأرض يوم مات أبوك، و الله لأن تفتقر عائشة أحب إلي من أن تفتقري، أتراني أعطي الأحمر و الأبيض حقه و أظلمك حقك، و أنت بنت رسول الله صلى الله عليه و آله و سلم، إن هذا المال لم يكن للنبي صلى الله عليه و آله و سلم، و إنما كان مالا من أموال المسلمين يحمل النبي به الرجال، و ينفقه في سبيل الله، فلما توفي رسول الله صلى الله عليه و آله و سلم وليته كما كان يليه.

قالت: و الله لا كلمتك أبدا، قال: و الله لا هجرتك أبدا، قالت: و الله لأدعون الله عليك، قال: و الله لأدعون الله لك، فلما حضرتها الوفاة أوصت ألا يصلي عليها، فدفنت ليلا، و صلى عليها عباس بن عبد المطلب، و كان بين وفاتها و وفاة أبيها اثنتان و سبعون ليلة.

[حضرت] فاطمہ [سلام الله علیہا] نے ابوبكر سے کہا: ام ایمن میرے لیے گواہی دیتی ہے کہ خود رسول خدا نے فدک مجھے بخشا ہے۔ ابوبکر نے کہا: ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم خداوند نے تیرے باپ کے علاوہ میرے نزدیک کسی کو محبوب تر خلق نہیں کیا، میں چاہتا تھا کہ اسکی رحلت کے دن، آسمان زمین پر آ گرتا، اگر عائشہ محتاج اور فقیر ہو جائے تو یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے کہ تم محتاج اور فقیر ہو جاؤ۔

کیا آپکا یہ گمان ہے کہ میں گورے اور کالے کو تو دیتا ہوں اور آپکے حق میں ظلم کرتا ہوں ؟ حالانکہ آپ تو رسول خدا کی بیٹی ہیں ؟ یہ مال (فدک) تو رسول خدا کا نہیں تھا بلکہ مسلمین کا مال ہے کہ جو وہ لے کر اس (رسول خدا ) کے لیے لاتے تھے اور رسول خدا اس مال کو راہ خدا میں خرچ کرتے تھے۔ اب جبکہ وہ وفات پا گئے ہیں، اس مال کا میں ذمہ دار ہوں، جیسے کہ وہ ذمہ دار تھے۔

حضرت زہرا نے فرمایا: خدا کی قسم آج کے بعد میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔ ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم میں تو تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔ حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا: خدا کی قسم میں تمہارے لیے بد دعا کروں گی۔ ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم میں تمہارے لیے دعا کروں گا۔ جب بی بی کی وفات کا وقت آن پہنچا تو انھوں نے وصیت کی کہ ابوبکر میری نماز جنازہ میں شریک نہ ہو، پس وہ رات کے اندھیرے میں دفن ہوئی اور عباس ابن عبد المطلب نے اس پر نماز پڑھی۔ رسول خدا اور اسکی وفات کے درمیان 72 راتوں کا فاصلہ تھا۔

الجوهري، أبي بكر أحمد بن عبد العزيز (متوفي323هـ)، السقيفة وفدك، ص 104، تحقيق: تقديم وجمع وتحقيق: الدكتور الشيخ محمد هادي الأميني، ناشر : شركة الكتبي للطباعة والنشر - بيروت – لبنان،

نتيجہ:

یہاں تک ان تین روایات کی روشنی میں چند نکات ثابت ہو جاتے ہیں:

اولا:

 ابو بكر اور عمر دونوں نے فدک غصب کرنے کے بعد اقرار کیا کہ انھوں نے حضرت زہرا (س) کو غصہ دلایا اور غضبناک کیا ہے، اسی وجہ سے وہ حضرت صدیقۃ الکبری کے پاس معذرت کرنے کے لیے آئے تھے:

انطلق بنا إلى فاطمة فأنا قد أغضبناها....

ثانيا:

حضرت زہرا (س) بھی مرتے دم تک ان دونوں سے راضی نہیں ہوئیں اور انکو معاف بھی نہیں کیا، کیونکہ جب وہ دونوں بی بی سے ملنے گھر آئے تو بی بی نے اپنا منہ ان سے موڑ کر دیوار کی طرف کر لیا:

حولت وجهها إلى الحائط، 

اور حضرت فاطمہ (س) کی ناراضگی ان سے اس حد تک شدید تھی کہ فرمایا: میں اپنی ہر نماز میں تم دونوں کے لیے بد دعا کرتی ہوں:

و الله لأدعون الله عليك في كل صلاة أصليها.

ثالثا:

 ان روایات کے مطابق حضرت زہرا (س) کی طرف سے نفرین کرنا، دو مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ ایک مرتبہ ابن قتیبہ کی روایت کے مطابق فدک غصب کرنے کے بعد، وہ دونوں امیر المؤمنین علی (ع) کے گھر گئے تو حضرت زہرا (س) نے یہ جملہ فرمایا:

(و الله لأدعون الله عليك)، 

اور دوسری مرتبہ بلاذری اور جوہری کی روایات کے مطابق جب حضرت زہرا (س) نے ان سے فدک واپس کرنے کا مطالبہ کیا اور انھوں نے واپس دینے سے انکار کیا تو حضرت فاطمہ (س) نے پھر نفرین کرنے کا مطلب بيان فرمایا۔

رابعا:

جوہری کی روایت کے مطابق حضرت صديقہ طاہره (س) نے وصیت کی کہ انھیں رات کی تاریکی میں دفن کیا جائے تا کہ ابوبکر جنازے میں شریک نہ ہو سکے اور نہ ہی نماز میت پڑھ سکے:

فلما حضرتها الوفاة أوصت ألا يصلي عليها، فدفنت ليلا.

آخری نکتہ: ان روایات کا معتبر ہونا:

اہل سنت اور خود وہابیوں کے علم رجال کے قاعدے کے مطابق یہ روایات معتبر ہیں اور دلیل و استدلال کے مقام پر بھی انکو ذکر کیا جا سکتا ہے۔

1- مذکورہ روایات مستفیض ہیں:

حضرت زہرا (س) کا نفرین کرنا، تین روایات میں اور متعدد اسناد کے ساتھ ذکر ہوا اور علمائے اہل سنت کے مطابق جو روایت تین سند کے ساتھ نقل ہو، وہ مستفیض ہوتی ہے اور علم حدیث کے مطابق مستفیض روایت حجت و معتبر ہوتی ہے۔

سبكی نے كتاب «رفع الحاجب عن مختصر ابن الحاجب» میں مستفیض روایت کی تعریف میں، اہل سنت کے علماء کے اقوال ذکر کیے ہیں:

و المستفيض ... في الغنية: تزيد على الاثنين و الثلاثة و الأربع. و عبارة صاحب التنبيه  : و أقل ما تثبت به الاستفاضة اثنان. و المختار عندنا: أن المستفيض ما يعده الناس شائعا، و قد صدر عن أصل، ليخرج ما شاع - لا عن أصل – و ربما حصلت الاستفاضة باثنين.

خبر مستفیض کی تعریف کتاب «الغنيہ» میں آئی ہے کہ: خبر مستفیض وہ ہے کہ جو دو سے زیادہ واسطوں سے نقل ہوئی ہو۔ صاحب کتاب تنبیہ نے کہا ہے: روایت مستفیض ثابت ہونے کے کم از کم دو واسطے ہیں۔

میری یہ رائے ہے کہ لوگ اس خبر کو مشہور جانتے ہوں اور اس شہرت کا سبب ایک قاعدہ ہو اور ممکن ہے کہ کبھی استفاضہ دو طریق سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

السبكي، تاج الدين أبي النصر عبد الوهاب بن علي بن عبد الكافي (متوفي646هـ)، رفع الحاجب عن مختصر ابن الحاجب، ج 2، ص 308، تحقيق: علي محمد معوض، عادل أحمد عبد الموجود، دار النشر: عالم الكتب - لبنان / بيروت

جزائری دمشقی نے لکھا ہے:

و أقل ما ثبت به الاستفاضة اثنان.

استفاضہ کم از کم دو طریق سے ثابت ہوتا ہے۔

الجزائري الدمشقي، طاهر بن صالح بن أحمد (متوفى: 1338هـ)، توجيه النظر إلي أصول الأثر، ج1، ص112، تحقيق: عبد الفتاح ابوغدة، ناشر: مكتبة المطبوعات الإسلامية - حلب، الطبعة: الأولى، 1416هـ ـ 1995م

شوكانی نے بھی لکھا ہے:

و القسم الثاني المستفيض و هو ما رواه ثلاثة فصاعدا و قيل ما زاد على الثلاثة و قال أبو اسحاق الشيرازي اقل ما تثبت به الاستفاضة اثنان.

قسم دوم : روايت مستفيض وہ ہے کہ جسکو تین یا اس سے زیادہ راویوں نے نقل کیا ہو، ایک قول ضیعف یہ بھی ہے کہ روایت مستفیض وہ ہے کہ جسکو تین سے زیادہ راویوں نے نقل کیا ہو، ابو اسحاق شيرازی نے کہا ہے: استفاضہ کم از کم دو طریق سے ثابت ہوتا ہے۔

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفى 1255هـ)، إرشاد الفحول إلي تحقيق علم الأصول، ج1، ص94، تحقيق: محمد سعيد البدري ابومصعب، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ ـ 1992م

حسن عطار نے لکھا ہے:

و قد يسمى أي المستفيض مشهورا و أقله من حيث عدد راويه أي أقل عدد روى المستفيض اثنان و قيل ثلاثة الأول مأخوذ من قول الشيخ في التنبيه و أقل ما يثبت به الاستفاضة اثنان.

کبھی مستفيض، مشہور کو بھی کہتے ہیں، خبر مستفیض کے کم از کم دو راوی ہوتے ہیں، بعض نے کہا ہے: تین راوی، پہلا قول شیخ کا ہے جو کتاب التنبیہ سے لیا گیا ہے اور استفاضہ کم از کم دو طریق سے ثابت ہوتا ہے۔

حسن العطار (متوفي1250 هـ)، حاشية العطار على جمع الجوامع ، ج 2، ص 157، دار النشر : دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة : الأولى 1420هـ - 1999م

حسن العطار نے لکھا ہے:

و قد يسمى أي المستفيض مشهورا.

کبھی کبھی مستفیض روایت کو مشہور روایت بھی کہتے ہیں۔

حسن العطار (متوفي1250 هـ)، حاشية العطار على جمع الجوامع ، ج 2، ص 157، دار النشر : دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة : الأولى 1420هـ - 1999م

محمد جمال الدين قاسمی نے بھی کہا ہے:

التاسع، المستفيض: هو المشهور، على رأي جماعة من أئمة الفقهاء.

قسم نہم: خبر مستفیض بعض فقہاء کے نزدیک وہی مشہور روایت ہوتی ہے۔

القاسمي، محمد جمال الدين (متوفى1332هـ)، قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث، ج 1، ص124، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1399هـ - 1979م.

ابن قدامہ نے خبر مستفيض کی حجیت کے بارے میں لکھا ہے:

لأن الاستفاضة أقوى من خبر الثقة.

استفاضہ، خبر ثقہ بھی زیادہ معتبر ہوتا ہے۔

الكافي في فقه ابن حنبل، ج 3، ص299 ، عبد الله بن قدامة المقدسي أبو محمد الوفاة: 620 ، دار النشر : المكتب الاسلامي – بيروت.

2. راویوں کا متعدد ہونا، باعث تقویت روایات ہوتا ہے:

ابن تيميہ معتقد ہے کہ اگر ایک روایت کے نقل کرنے والے متعدد راوی ہوں تو وہ ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں اور وہ روایت علمی طور پر قابل قبول ہو جاتی ہے اور کبھی اس روایت کے صادر ہونے کے بارے میں علم و یقین حاصل ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ راوی فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہوں:

فإن تعدد الطرق و كثرتها يقوى بعضها بعضا حتى قد يحصل العلم بها و لو كان الناقلون فجارا فساقا فكيف إذا كانوا علماء عدولا.

بے شک طریق (راویوں) کا متعدد اور بکثرت ہونا، یہ ایک دوسرے کی علمی تقویت کا باعث بنتا ہے، حتی کبھی اس روایت کے صحیح صادر ہونے کا بھی یقین حاصل ہو جاتا ہے، اگرچہ اس روایت کے نقل کرنے والے، فاجر اور فاسق ہی کیوں نہ ہوں، اور اگر وہ روایت نقل کرنے والے عادل علماء ہوں تو پھر روایت کی صورتحال واضح ہو گی۔

ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابوالعباس أحمد عبد الحليم (متوفى 728 هـ)، كتب ورسائل وفتاوي شيخ الإسلام ابن تيمية، ج 18، ص26، تحقيق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم العاصمي النجدي، ناشر: مكتبة ابن تيمية، الطبعة: الثانية.

نتيجہ كلی:

اولا:

 ان روایات کے مطابق حضرت زہرا (س) ابوبکر سے ناراض تھیں اور اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس سے بات تک نہ کی اور بی بی کا پہلا اور آخری کلام ابوبکر سے یہی تھا کہ میں اپنی ہر نماز میں تمہارے لیے بد دعا کروں گی۔

ثانيا:

 یہ روایات اہل سنت اور وہابیت کے علمی قواعد کے مطابق صحیح و معتبر ہیں:

1. بہت سے اہل سنت کے علماء کی تعریف کے مطابق، وہ روایت کہ جسکو تین یا حتی دو راویوں نے نقل کیا ہو، وہ روایت مستفیض ہوتی ہے اور یہ روایت، مشہور روایت کے مساوی ہوتی ہے اور روایت مشہور بھی حجت (معتبر) ہوتی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ روایت مستفیض، ثقہ خبر سے بھی زیادہ معتبر ہوتی ہے۔

2. ابن تیمیہ کے واضح فتوے کے مطابق وہ روایت کہ جو متعدد طرق سے نقل ہوئی ہو، وہ واسطے ایک دوسرے کی تقویت کرتے ہیں اور جس سے اس روایت کے قطعی طور پر ایک راوی سے صادر ہونے کا علم حاصل ہو جاتا ہے۔

پس مورد بحث روایت تین طریق سے نقل ہوئی ہے، جو کہ مستفیض ہے اور خبر ثقہ سے بھی قوی تر ہے اور یہ راوی ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں کہ جسکے نتیجے میں حضرت زہرا (س) کی ابوبکر اور اسکے جگری دوست عمر پر نفرین و بد دعا کرنے کی روایات خود اہل سنت و وہابیت کے علمی قواعد کے مطابق، معتبر ہیں۔

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی