2022 July 5
اہل سنت کی معتبر کتب میں حضرت زہرا (س) کے فضائل کے بارے میں 40 احادیث
مندرجات: ٦٣٨ تاریخ اشاعت: ١٠ October ٢٠٢١ - ١٢:٤٨ مشاہدات: 8469
یاداشتیں » پبلک
اہل سنت کی معتبر کتب میں حضرت زہرا (س) کے فضائل کے بارے میں 40 احادیث

1- قال رسول اللّه (ص(: إذا كانَ يَوْمُ القيامَةِ نادي مُنادٍ: يا أَهْلَ الجَمْعِ غُضُّوا أَبْصارَكُمْ حَتي تَمُرَّ فاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: روز قیامت ایک منادی نداء دے گا کہ: اے اہل قیامت اپنی آنکھوں کو بند کر لو، کیونکہ اب یہاں سے فاطمہ کا گزر ہونے والا ہے۔

كنز العمّال ج 13 ص 91 و 93

منتخب كنز العمّال بهامش المسند ج 5 ص 96

الصواعق المحرقة ص 190

أسد الغابة ج 5 ص 523

تذكرة الخواص ص 279

ذخائر العقبي ص 48

مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 356

نور الأبصار ص 51 و 52

ينابيع المودّة ج 2 باب 56 ص 136.

2- قال رسول اللّه (ص(: كُنْتُ إذا اشْتَقْتُ إِلي رائِحَةِ الجنَّةِ شَمَمْتُ رَقَبَةَ فاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: میں جب بھی جنت کی خوشبو کا مشتاق ہوتا ہوں تو فاطمہ سے اس خوشبو کو سونگھتا ہوں۔

منتخب كنز العمّال ج 5 ص 97

نور الأبصار ص 51

مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 360.

3- قال رسول اللّه (ص(: حَسْبُك مِنْ نساءِ العالَميَن أَرْبَع: مَرْيمَ وَآسيَة وَخَديجَة وَفاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: تمام جہانوں میں فقط چار عورتیں بہترین ہیں، مریم، آسیہ، خدیجہ اور فاطمہ (س)۔

مستدرك الصحيحين ج 3 باب مناقب فاطِمَة ص 171

سير أعلام النبلاء ج 2 ص 126

البداية والنهاية ج 2 ص 59

مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 363.

4- قال رسول اللّه (ص(: يا عَلِي هذا جبريلُ يُخْبِرنِي أَنَّ اللّهَ زَوَّجَك فاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: اے علی ابھی مجھے جبرائیل نے خبر دی ہے کہ خداوند نے فاطمہ کی شادی تم سے کر دی ہے۔

مناقب الإمام علي من الرياض النضرة: ص 141.

5- قال رسول اللّه (ص(: ما رَضِيْتُ حَتّي رَضِيَتْ فاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: میں کبھی بھی کسی سے راضی نہیں ہوا، مگر یہ کہ فاطمہ اس سے راضی ہو جائے۔

مناقب الإمام علي لابن المغازلي: ص 342.

6- قال رسول اللّه (ص(: يا عَلِيّ إِنَّ اللّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَكَ فاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: اے علی خداوند نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں فاطمہ کی شادی تم سے کر دوں۔

الصواعق المحرقة باب 11 ص 142

ذخائر العقبي ص 30 و 31

تذكرة الخواص ص 276

مناقب الإمام علي من الرياض النضرة ص141

نور الأبصار ص53.

7- قال رسول اللّه (ص(: إِنّ اللّهَ زَوَّجَ عَليّاً مِنْ فاطِمَة

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: خداوند نے علی کی شادی فاطمہ سے کی ہے۔

الصواعق المحرقة ص 173.

8- قال رسول اللّه (ص(: أَحَبُّ أَهْلِي إِليَّ فاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: میرے اہل بیت میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب، فاطمہ ہے۔

الجامع الصغير ج 1 ح 203 ص 37

الصواعق المحرقة ص 191

ينابيع المودّة ج 2 باب 59 ص 479

كنز العمّال ج 13 ص93.

9- قال رسول اللّه (ص(: خَيْرُ نِساءِ العالَمين أَرْبَع: مَرْيَم وَآسية وَخَدِيجَة وَفاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: جہان کی تمام عورتوں کی سردار چار خواتین ہیں، مریم، آسیہ، خدیجہ اور فاطمہ،

الجامع الصغير ج 1 ح 4112 ص 469

الإصابة في تمييز الصحابة ج 4 ص 378

البداية والنهاية ج 2 ص 60

ذخائر العقبي ص 44.

10- قال رسول اللّه (ص(: سيّدَةُ نِساءِ أَهْلِ الجَنَّةِ فاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: جنت کی تمام عورتوں کی سرور و سردار فاطمہ ہیں۔

كنز العمّال ج13 ص94

صحيح البخاري، كتاب الفضائل، باب مناقب فاطمة

البداية والنهاية ج 2 ص61.

11- قال رسول اللّه (ص (: أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الجَنَّةَ: عَليٌّ وَفاطِمَة

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ : جنت میں سب سے پہلے علی اور فاطمہ داخل ہوں گے۔

نور الأبصار ص 52/ شبيه به آن در كنز العمّال ج 13 ص 95.

12- قال رسول اللّه (ص): أُنْزِلَتْ آيَةُ التطْهِيرِ فِيْ خَمْسَةٍ فِيَّ، وَفِيْ عَليٍّ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَفاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: آیت تطہیر پنجتن پاک میرے، علی، حسن، حسین اور فاطمہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

إسعاف الراغبين ص 116

صحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة.

13- قال رسول اللّه(ص): أَفْضَلُ نِساءِ أَهْل الجَنَّةِ: مَرْيَمُ وَآسيةُ وَخَديجَةُ وَفاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: اہل جنت کی عورتوں میں سے سب سے افضل مریم، آسیہ، خدیجہ اور فاطمہ ہیں۔

سير أعلام النبلاء: ج 2 ص 126

ذخائر العقبي: ص 44.

14- قال رسول اللّه (ص): أَوَّلُ مَنْ دَخَلَ الجَنَّةَ فاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: سب سے پہلے جنت میں فاطمہ داخل ہوں گی۔

ينابيع المودّة ج2 ص322 باب56.

15- قال رسول اللّه (ص): المَهْدِيِ مِنْ عِتْرَتي مِنْ وُلدِ فاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: امام مہدی میرے اہل بیت میں سے ہے کہ جو فاطمہ کی اولاد میں سے ہیں۔

الصواعق المحرقة ص237.

16- قال رســـول اللّه (ص): إنّ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ فَطـــَمَ ابْنَتِي فاطِمَـــة وَوُلدَهـــا وَمَنْ أَحَبًّهُمْ مِنَ النّارِ فَلِذلِكَ سُمّيَتْ فاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: خداوند نے جہنم کی آگ کو میری بیٹی فاطمہ اور انکی اولاد اور جو بھی ان سے محبت کرتا ہو گا، دور کیا ہے، پس اسی وجہ سے میری بیٹی کا نام فاطمہ رکھا گیا ہے۔

كنز العمال ج6 ص219.

17- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة أَنْتِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتي لُحُوقاً بِي۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: اے فاطمہ میرے مرنے کے بعد میرے اہل بیت میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے آ کر ملو گی۔

حلية الأولياء ج 2 ص 40

صحيح البخاري كتاب الفضائل

كنز العمّال ج 13 ص 93

منتخب كنز العمّال ج 5 ص 97.

18- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة بَضْعَةٌ مِنّي يَسُرُّنِي ما يَسُرُّها۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جو بھی اسکو خوش کرے گا، اس نے مجھے خوش کیا ہے۔

الصواعق المحرقة ص 180 و 232

مستدرك الحاكم

معرفة ما يجب لآل البيت النبوي من الحق علي من عداهم ص 73 ينابيع المودّة ج 2 باب 59 ص 468.

19- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة سِيِّدةُ نِساءِ أَهْلِ الجَنِّة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: میری بیٹی فاطمہ جنت کی عورتوں کی سید و سردار ہے۔

صحيح البخاري ج 3 كتاب الفضائل باب مناقب فاطِمَة ص 1374

مستدرك الصحيحين ج 3 باب مناقب فاطِمَة ص 164

سنن الترمذي ج 3 ص 226

كنز العمّال ج 13 ص 93

منتخب كنز العمّال ج 5 ص 97

الجامع الصغير ج 2 ص 654 ح 5760

سير أعلام النبلاء ج 2 ص 123

الصواعق المحرقة ص 187 و 191

خصائص الإمام عليّ للنسائي ص 118

ينابيع المودّة ج 2 ص 79

الجوهرة في نسب عليّ وآله ص 17

البداية والنهاية ج 2 ص 60.

20- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة بَضْعَةُ مِنّي فَمَنْ أَغْضَبَها أَغْضَبَنِي۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ میرے تن کا ٹکڑا ہے، جو بھی اسکو ناراض کرے گا، اس نے مجھے ناراض کیا ہے۔

صحيح البخاري ج 3 كتاب الفضائل باب مناقب فاطِمَة ص 1374

خصائص الإمام عليّ للنسائي ص 122

الجامع الصغير ج 2 ص 653 ح 5858

كنز العمّال ج 3 ص 93 ـ 97

منتخب بهامش المسند ج 5 ص 96

مصابيح السنّة ج 4 ص 185

إسعاف الراغبين ص 188

ذخائر العقبي ص 37

ينابيع المودّة ج 2 ص 52 ـ 79.

21- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة خُلِقَتْ حورِيَّةٌ فِيْ صورة إنسيّة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ انسان کی شکل میں خلق کی گئی، جنت کی حور ہیں۔

مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 296.

22- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة حَوْراءُ آدَميّةَ لَم تَحضْ وَلَمْ تَطْمِث۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ انسان کی شکل میں جنت کی حور ہیں، کہ جو خون حیض اور نفاس سے دوچار نہیں ہوتیں۔

الصواعق المحرقة ص 160

إسعاف الراغبين ص 188

كنز العمّال ج 13 ص 94

منتخب كنز العمّال ج 5 ص 97.

23- قال رسول اللّه (ص) : فاطِمَة أَحَبُّ إِليَّ مِنْكَ يا عَلِيّ وَأَنْتَ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْها۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: اے علی فاطمہ میرے لیے آپ سے زیادہ محبوب ہے، اور اے علی آپ میرے لیے اس سے زیادہ عزیز ہو۔

مجمع الزوائد ج 9 ص 202

الجامع الصغير ج 2 ص 654 ح 5761

منتخب كنز العمّال ج 5 ص 97

أسد الغابة ج 5 ص 522

ينابيع المودّة ج 2 باب 56 ص 79

الصواعق المحرقة الفصل الثالث ص 191.

24- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة بَضْعَةٌ مِنّي وَهِيَ قَلْبِيْ وَهِيَ روُحِي التي بَيْنَ جَنْبِيّ۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور وہ میرا دل ہے اور وہ میرے بدن میں موجود میری روح ہے۔

نور الأبصار ص 52.

25- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة سيِّدَةُ نِساءِ أُمَّتِي۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ میری امت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں۔

سير أعلام النبلاء ج 2 ص 127

صحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب مناقب فاطمة

مجمع الزوائد ج 2 ص 201

إسعاف الراغبين ص 187.

26- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة بَضْعَةٌ مِنّي يُؤلِمُها ما يُؤْلِمُنِي وَيَسَرُّنِي ما يَسُرُّها۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جو بھی اسکو تکلیف دے گا، اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور جو بھی اسکو خوش حال کرے گا، اس نے مجھے خوشحال کیا ہے۔

مناقب الخوارزمي ص 353.

27- قال رسول اللّه (ص: (فاطِمَة بَضْعَةٌ مِنّي مَنْ آْذاهَا فَقَدْ آذانِي۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ میرے جگر کا حصہ ہے، جو بھی اس کو اذیت پہنچائے گا، اس نے بے شک مجھ کو اذیت پہنچائی ہے۔

السنن الكبري ج 10 باب من قال: لا تجوز شهادة الوالد لولده ص 201

كنز العمّال ج 13 ص 96

نور الأبصار ص52

ينابيع المودّة ج 2 ص 322.

28- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة بَهْجَةُ قَلْبِي وَابْناها ثَمْرَةُ فُؤادِي۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ میرے دل کا آرام و قرار ہے اور اسکے دو بیٹے میرے دل کے پیارے ہیں۔

ينابيع الموّدة ج 1 باب 15 ص 243.

29- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة لَيْسَتْ كَنِساءِ الآدَميّين۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ عام عورتوں کی طرح ایک عورت نہیں ہے۔

مجمع الزوائد ج 9 ص 202.

30- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة إِنّ اللّهَ يَغْضِبُ لِغَضَبَكِ۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: اے فاطمہ خداوند تیرے غضبناک ہونے کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہے۔

الصواعق المحرقة ص 175

مستدرك الحاكم، باب مناقب فاطمة

مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 351.

31- قال رسول اللّه (ص): فاطِمَة إِنّ اللّهَ غَيْرُ مُعَذِّبِكِ وَلا أَحَدٍ مِنْ وُلْدِكِ۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: اے فاطمہ بے شک خداوند تجھے اور تیری اولاد میں سے کسی ایک کو بھی عذاب نہیں کرے گا۔

كنز العمّال ج13 ص96

منتخب كنز العمّال بهامش مسند أحمد ج5 ص97

إسعاف الراغبين بهامش نور الأبصار ص118.

32- قال رسول اللّه (ص): كَمُلَ مِنَ الرِّجال كَثِيرُ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النساءِ إِلاّ أَرْبَع: مَرْيـــم وَآسِيَة وَخَديجـــَة وَفاطِمـــَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: مردوں میں سے بہت کی عقل کامل ہوئی ہے، لیکن عورتوں میں سے فقط چار عورتوں کی عقل کامل ہوئی ہے اور وہ مریم، آسیہ، خدیجہ اور فاطمہ ہیں۔

نور الأبصار ص 51.

33- قال رسول الله (ص): ليلة عرج بي إلي السماء رأيت علي باب الجنّة مكتوبا: لا إله إلا الله، محمّد رسول الله، عليّ حبيب الله، الحسن والحسين صفوة الله، فاطمة خيرة الله، علي مبغضيهم لعنة الله۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: جس رات کو مجھے معراج پر لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ جنت کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ: لا إلہ إلا الله ، محمد رسول الله ، علی ولی الله ، حسن و حسین اور فاطمہ خداوند کے برگذیدہ انسان ہیں۔ جو بھی ان سے بغض رکھنے والا ہو گا، اس پر خداوند کی لعنت ہو گی۔

تاريخ بغداد :ج 1ص259

تاريخ دمشق :ج 14ص170

لسان الميزان :ج 5ص70

34- قال رسول الله (ص): لو كان الحسن شخصا لكان فاطمة ، بل هي أعظم ، إن فاطمة ابنتي خير أهل الأرض عنصرا وشرفا وكرما۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: اگر حسن و خوبصورتی ایک انسان کی شکل میں ہوتے، تو وہ فاطمہ کی شکل میں ہوتے، بلکہ وہ ان سے بھی بالا تر ہوتی۔ بے شک میری بیٹی فاطمہ عنصر (ذات) ، شرف اور کرم کے لحاظ سے تمام اہل زمین سے افضل ہے۔

مقتل الحسين :ج 1ص60.

35- خرج رسول الله (ص): وهو آخذ بيد فاطمة (سلام الله عليها) فقال : (من عرف هذا فقد عرفها ومن لم يعرفها فهي فاطمة بنت محمّد وهي قلبي وروحي التي بين جنبي۔

رسول خدا گھر سے باہر نکلے، اس حالت میں کہ آپ نے اپنی بیٹی فاطمہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، پھر آپ نے فرمایا کہ: جو بھی اسکو پہچانتا ہے، وہ تو پہچانتا ہی ہے، اور جو نہیں پہچانتا تو وہ اسکو جان لے کہ یہ فاطمہ محمد کی بیٹی ہے، وہ میری دل و جان اور میرے بدن میں موجود میری روح ہے۔

الفصول المهمّة : ص146

نور الأبصار :ص 53

36- قال رسول الله (ص): إنّما سمّيت فاطمة لأنّ الله عزّوجلّ فطم من أحبّها من النّار۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ کا نام فاطمہ اسلیے رکھا گیا ہے کہ: خداوند نے اس سے محبت کرنے والوں کو جہنم کی آگ سے دور کیا ہے۔

مجمع الزوائد :ج 9ص201

37- قال رسول الله (ص): أتاني جبرئيل قال : يا محمّد إنّ ربّك يحبّ فاطمة فاسجد , فسجدت , ثمّ قال : إنّ الله يحبّ الحسن والحسين فسجدت , ثمّ قال : إنّ الله يحبّ من يحبّهما۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: جبرائیل میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ: اے محمد، خداوند فاطمہ سے محبت کرتا ہے، پس تم سجدہ کرو، پس میں نے بھی سجدہ کیا، پھر اس نے کہا کہ: بے شک خداوند حسن اور حسین سے بھی محبت کرتا ہے، پس میں نے دوبارہ سجدہ کیا، پھر اس نے کہا کہ: جو بھی ان دونوں سے محبت کرتا ہے، تو خداوند ان سب سے بھی محبت کرتا ہے۔

لسان الميزان :ج 3ص275

38- قال رسول الله (ص): إن فاطمة شعرة مني فمن آذي شعرة مني فقد آذاني ، ومن آذاني فقد آذي الله ، ومن آذي الله لعنه ملء السماوات والأرض۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: فاطمہ میرے جسم کا ایک بال ہے، پس جس نے میرے بدن کے بال کو اذیت کی تو اس نے مجھے، اذیت کی ہے اور جس نے مجھے اذیت کی تو اس نے خداوند کو اذیت کی ہے اور جو خداوند کو اذیت کرے گا تو خداوند اسکو زمین اور آسمان کے برابر لعنت کرے گا۔

حلية الأولياء :ج 2ص40

39- قال رسول الله (ص : (يا سلمان , حبّ فاطمة ينفع في مئة من المواطن , أيسر تلك المواطن : الموت , والقبر , والميزان , والمحشر , والصراط , والمحاسبة , فمن رضيت عنه ابنتي فاطمة , رضيت عنه , ومن رضيت عنه رضي الله عنه , ومن غضبت عليه ابنتي فاطمة , غضبت عليه , ومن غضبت عليه غضب الله عليه , يا سلمان ويل لمن يظلمها ويظلم بعلها أمير المؤمنين عليا , وويل لمن يظلم ذرّيتها وشيعتها۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: اے سلمان فاطمہ کی محبت انسان کو 100 مقامات پر فائدہ دیتی ہے، کہ ان مقامات میں سے کم ترین اور آسان ترین مقام، مرتے وقت، قبر میں، میزان پر، محشر میں، پل صراط پر، اعمال کے حساب کتاب کے وقت،

پس جس سے بھی میری بیٹی فاطمہ راضی ہو گی، تو میں بھی اس سے راضی ہوں گا اور جس سے میں راضی ہوں گا تو خداوند بھی اس سے راضی ہو گا، اور جس پر بھی میری بیٹی فاطمہ غضبناک ہو گی تو میں بھی اس پر غضبناک ہوں گا اور جس پر بھی میں غضبناک ہوں گا تو خداوند بھی اس پر غضبناک ہو گا۔

اے سلمان، وہ بدبخت اور اسکا برا حال ہو گا، جو اس (فاطمہ) اور اسکے شوہر امیر المؤمنین علی پر ظلم و ستم کرے گا، اور وہ بھی بدبخت اور اسکا برا حال ہو گا، جو انکی نسل اور انکے شیعوں پر ظلم و ستم کرے گا۔

فرائد السمطين : 2 باب 11 ح 219

كشف الغمہ :ج 1ص467

40- قرأ رسول الله (ص): هذا الآية : (في بيوت أذن الله أن ترفع ويذكر فيها اسمه) فقام إليه رجل فقال : أي بيوت هذه يا رسول الله ؟ قال : بيوت الأنبياء , فقام إليه أبوبكر فقال : يا رسول الله أهذا البيت منها ؟ -مشيرا إلي بيت علي وفاطمة عليهما السلام-قال : نعم , من أفاضلها۔

رسول خدا نے جب اس آیت کی تلاوت کی : ان گھروں میں کہ خداوند نے خود اجازت دی ہے کہ انکا مقام بلند ہو اور ان گھروں میں خدا کا ذکر کیا جائے،

تو ایک بندے نے کھڑے ہو کر سوال کیا: یا رسول اللہ یہ کونسے گھر ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ: ان سے مراد انبیاء کے گھر ہیں۔ یہ سن کر ابوبکر نے کھڑے ہو کر علی و فاطمہ کے گھر کی طرف اشارہ کر کے سوال کیا کہ: یا رسول اللہ، کیا یہ گھر بھی ان گھروں میں شامل ہے ؟ رسول خدا نے فرمایا کہ: ہاں، بلکہ یہ گھر ان گھروں سے افضل ہے۔

الدر المنثور :ج 6ص203

تفسير آية النور , روح المعاني :ج 18ص174

تفسير الثعلبي :ج 7ص107

الكشف والتبيان للمسفوي :ص 72

حضرت زہرا (س) پر ہونے والے مظالم کے بارے میں تحقیق اور مطالعے کے لیے ان کتب کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے::


1 ـ الامالي للصدوق: ص 99/101 و 118 .
2
ـ إثبات الهداة: ج 1 ص 280 /281 .
3
ـ إرشاد القلوب للديملي: ص 295 .
4
ـ بشارة المصطفي:ص 197 ـ 200 .
5
ـ الفضائل لابن شاذان:ج 8ص11 .
6
ـ غاية المرام:ص 48 .
7
ـ المحتضر:ج 109 و44/55 .
8
ـ المناقب لابن شهر آشوب: ج 2 ص 209 .
9
ـ وفاة الصديقة الزهراء للمقرم: 60 و 78 .
10
ـ تفسير العياشي: ج 2 ص 307 و 308 .
11
ـ البرهان في تفسير القرآن: ج 2 ص 434 .
12
ـ كامل الزيارات: ص 332و 335 .
13
ـ الهداية الكبري: ص 179 و 407 و 408 و 417 .
14
ـ حلية الأبرار: ج 2 ص 652 .
15
ـ نوائب الدهور: ص 194 .
16
ـ فاطمة الزهراء بهجة قلب المصطفي: ج 2 ص 532 .
17
ـ الاختصاص: ص 185 و 184 .
18
ـ المغني للقاضي عبد الجبار: ج 20 ق 1 ص 335 .
19
ـ الشافي للسيد المرتضي: ج 4 ص 110/119 و 117 و 120 .
20
ـ الأنوار النعمانية،

21 ـ مصباح الأنوار ،
22
ـ نوادر الأخبار: ص 183 .
23
ـ علم اليقين: ص 686 ـ 688 .
24
ـ المنتخب للطريحي: ص 136 / 137 و 293 .
25
ـ مؤتمر علماء بغداد: ص 135 / 137 .
26
ـ سيرة الأئمة الاثني عشر: ج 1 ص 132 .
27
ـ الملل والنحل: ج 1 ص 57 .
28
ـ بهج الصباغة: ج 5 ص 15 .
29
ـ بيت الأحزان: ص 124 .
30
ـ الفرق بين الفرق: ص 148 .
31
ـ الخطط للمقريزي: ج 2 ص 346 .
32
ـ الوافي بالوفيات:ج 6ص17 .
33
ـ شرح نهج البلاغة للمعتزلي: 2/60 و 16/235 ، 271 .
34
ـ أعلام النساء:ج 4ص124 .
35
ـ الصراط المستقيم:ج 3ص13 .
36
ـ الارجوزة المختارة:ج 88ص92 .
37
ـ ديوان مهيار:ج 2ص367 .
38
ـ أرجوزة في تواريخ النبي والأئمة: 13 .
39
ـ تراجم أعلام النساء:ج 2ص316 .
40
ـ الأنوار القدسية للاصفهاني:ج 42ص44 .
41
ـ فرائد السمطين:ج 2ص34 .
42
ـ البحار: 28/297 و 268/270 وهامش 271 و 37/39 و 51 و 321 و 62۔ 43/197 و 172۔ 95/351۔ 30/293 و 302 و 348/350۔ 44/149 ۔53/14 ۔ 29/192 .
43
ـ سليم بن قيس:ج 2ص585 .
44
ـ العوالم:ج 11ص400 ، 416 ، 392 و 441 .
45
ـ الاحتجاج:ج 1ص210 ، 414 .
46
ـ مرآة العقول:ج 5ص319 .
47
ـ ضياء العالمين: ج 2 ق 3 ص 60 .
48
ـ جلاء العيون للمجلسي:ج 1ص193 ، 184 .
49
ـ كامل بهائي:ج 1ص306 ، 312 .
50
ـ حديقة الشيعة:ص 265 .
51
ـ روضة المتّقين:ج 5ص342 .
52
ـ تراجم أعلام النساء:ج 2ص321 .
53
ـ الصوارم الحاسمة للكمالي الاسترابادي ،

54 ـ نوائب الدهور:ج 1ص157 .
55
ـ ألقاب الرسول (ص) وعترته:ص 39 .
56
ـ تلخيص الشافي:ص 3ص156 .
57
ـ النقض:ج 298 .
58
ـ اللوامع الالهية في المباحث الكلامية:ص 302 .
59
ـ مناظرة الغروي والهروي:ص 47 .
60
ـ الإمامة لابن سعد الجزائري: (مخطوط)ص 81 .
61
ـ الرسائل الاعتقادية للخواجوئي المازندارني:ص 444 .
62
ـ الحدائق الناضرة:ج 5ص180 .
63
ـ روضات الجنات:ج 1ص358 .
64
ـ التتمة في تواريخ الأئمة:ص 28 ، 35 .

حضرت زہرا (س) پر ان مظالم کی وجہ سے حضرت محسن کے سقط ہونے کے بارے تحقیق اور مطالعے کے لیے ان کتب کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے::


1
ـ اثبات الوصية:ص 143 .
2
ـ الملل والنحل:ج 1ص57 .
3
ـ بهج الصباغة:ج 5ص15 .
4
ـ بيت الأحزان:ص 124 .
5
ـ الوافي بالوفيات:ج 6ص17 .
6
ـ شرح نهج البلاغة للمعتزلي:ج 2ص60 و ج 14ص139 عن شيخه أبي جعفر النقيب،
7
ـ الارجوزة المختارة:ج 88 .
8
ـ المنتخب للطريحي:ص 136 و 293 .
9
ـ أرجوزة الحر العاملي في تواريخ الأئمة:ص 13 ،

10 ـ تراجم أعلام النساء:ج 2ص316 .
11
ـ الأنوار القدسية:ص 42 .
12
ـ فرائد السمطين:ج 2ص34 .
13
ـ الأمالي للصدوق:ص 99 .
14
ـ إرشاد القلوب للديلمي:ص 295 .
15
ـ جلاء العيون:ج 1ص184 و 193 .
16
ـ بشارة المصطفي:ص 197 .
17
ـ الفضائل لابن شاذان:ج 8ص11 تحقيق الأرموي،
18
ـ غاية المرام:ص 48 .
19
ـ المحتضر:ص 109 .
20
ـ إقبال الأعمال:ص 625 .
21
ـ دلائل الإمامة:ص 45 و 26 .
22
ـ مهج الدعوات:ص 257 و 258 .
23
ـ المصباح للكفعمي:ص 522 .
24
ـ مسند الإمام الرضا للعطاردي:ج 2ص65 .
25
ـ الإمامة لابن سعد الجزائري: (مخطوط)ص 81 .
26
ـ ضياء العالمين: ج 2 ق 2 ص 62 .
27
ـ طريق الارشاد للخواجوئي (مطبوع مع الرسائل الاعتقادية) ص:444 و 465 .
28
ـ الرسائل الاعتقادية:ص 301 .
29
ـ الحدائق الناضرة:ج 5ص180 .
30
ـ تشييد المطاعن: 1/ فيه عشرات الصحفات ،
31
ـ الصوارم الماضية: (مخطوط)ص 56 .
32
ـ روضات الجنات:ج 1ص358 .
33
ـ تلخيص الشافي:ج 3ص156 .
34
ـ النقض:ص 298 .
35
ـ اللوامع الالهية في المباحث الكلامية:ص 302 .
36
ـ مناظرة الغروي والهروي:ص 47 .
37
ـ نفحات اللاهوت:ص 130 .
38
ـ إحقاق الحق:ج 2ص374 .
39
ـ سيرة الأئمة الاثني عشر:ج 1ص132 .
40
ـ الصراط المستقيم:ج 3ص12 .
41
ـ كامل بهائي:ص 309 .
42
ـ التتمة في تواريخ الأئمة:ص 28 .
43
ـ اثبات الهداة:ج 2ص370 و 337 و 380 .
44
ـ مناقب آل أبي طالب (لابن شهر آشوب):ج 3ص407 .
45
ـ البحار : 3/393 ، 25/373 ، 28/308 و 271 ، 37/39 و 268/270 و 209 و 210 و 264 و 323 ، 29/192 ، 30/294 ، 39/41 ، 42/91 ، 43/237 و 170 و 197 و 22/64 ، 82/261 ، 83/223 ، 97/199 .
46
ـ عوالم العلوم:ج 11ص539 و 411 و 504 و 391 و 400 و398 و 441
47
ـ المجدي في أنساب الطالبين:ص 12 .
48
ـ فاطمة الزهراء بهجة قلب المصطفي:ج 2ص532 .
49
ـ نوائب الدهور:ص 192 .
50
ـ الاختصاص:ص 343 و184 ،
51
ـ كامل الزيارات:ص 326 و 332 .
52
ـ وفاة الصديقة الزهراء:ص 78 .
53
ـ كتاب سليم بن قيس:ص 587 و 590 .
54
ـ الاحتجاج:ج 1ص210 و 414 .
55
ـ مرآة العقول:ج 5ص319 و 318 .
56
ـ كفاية الطالب:ص 413 .
57
ـ حديقة الشيعة:ص 265 .
58
ـ معاني الأخبار:ص 205 .
59
ـ الهداية الكبري:ص 179 و 417 .
60
ـ حلية الأبرار:ج 2ص652 .
61
ـ البلد الأمين:ص 551 .
62
ـ علم اليقين:ص 701 و 686 .
63
ـ روضة المتقين:ج 5ص342 .
64
ـ تراجم أعلام النساء:ص 321 .
65
ـ نوادر الأخبار للفيض:ص 183 .
66
ـ مؤتمر علماء بغداد:ص 135 .
67
ـ البدء والتاريخ:ج 5ص20 .
68
ـ فاطمة بنت رسول الله لعمر أبي النصر:ص 94 .
69
ـ التنبيه والرد علي أهل الأهواء والبدع:ص 25 .
70
ـ منتهي الآمال:ج 1ص263 و 201 .
71
ـ التتمة في تواريخ الأئمة:ص 35 .
72
ـ مقتل الحسين للمقرم:ص 389 (عن كاشف الغطاء،

73 ـ ميزان الاعتدال:ج 1ص139 .
74
ـ لسان الميزان:ج 1ص268 .
75
ـ سير أعلام النبلاء:ج 15ص578

التماس دعا.....





Share
1 | Syed Haseeb Ali Shah | | ١٦:٥٠ - ٣١ December ٢٠٢١ |
ماشاء اللّٰه! آپ نے بہت محنت سے یہ احادیث اکٹھی کی ہیں۔ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ حوالہ جات کا اندراج منکروں کے لیے حجت ثابت ہو گا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔
ملکۂِ عالمینؐ، سیدۃ نساءؐ، سیدۂِ کونینؐ، خاتونِ جنتؐ، محرومۂِ فدکؐ، بتولؐ، حجابُ اللّٰهؐ، مالکہِ چادرِ تطہیرؐ بی بی پاک سیدہ بنتِ رسول (ص) کی وراثت چھیننے والوں پہ لعنت۔۔۔ بے شمار

جواب:
سلام علیکم ۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔
۔۔ ہم ضمیر اور نام کا تعین نہیں کرتے بلکہ جس نے بھی آل محمد (ص) پر ظلم کیا ہے اس سے اظہار برائت کرتے ہیں اور اصولی طور پر یہی یہی اہل سنت کا بھی موقف اور نعرہ ہونا چاہئے ۔۔
اب فرشتے خود بہتر جانتے ہیں لعن کس کے کھاتے میں جانا چاہئے ۔۔۔
   
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی