2022 September 29
کیا شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔۔۔۔۔۔ شیعہ نظریہ امامت اور ختم نبوت۔۔۔۔۔۔۔۔
مندرجات: ٢٢٢٣ تاریخ اشاعت: ١٠ February ٢٠٢٢ - ١٧:٣٠ مشاہدات: 352
مضامین و مقالات » پبلک
کیا شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔۔۔۔۔۔ شیعہ نظریہ امامت اور ختم نبوت۔۔۔۔۔۔۔۔

شیعہ نظریہ امامت اور ختم نبوت


جیساکہ دین اسلام ,دین خاتم اور اللہ کا کامل ترین اور آخری دین ہے ۔ اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ سلم , اللہ کا آخری نبی ہیں، ان کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا نہ نیا دین اور نئی شریعت.

اللہ کے پیارے رسول (ص) کامل ترین دین کو مکمل کر کے دنیا سے چلے گئے ہیں.

لہذا اب اللہ کا کوئی فرشتہ دین کا نیا حکم اور شریعت کا نیا قانون اور احکام لے کر اللہ کے کسی بندے پر نازل نہیں ہوگا۔

اسی لیے نہ کوئی شریعت کے کسی حکم کو بدل سکتا ہے نہ کسی حکم کو باطل قرار دے سکتا ہے اور نہ کوئی نیا قانون اور حکم لاسکتا ہے....

جیساکہ آئمہ اہل بیت (ع) نے یہی بیان فرمایا ہے کہ دین مکمل طور پر قرآن اور سنت کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے. شریعت کا حکم قرآن و سنت میں موجود ہے ، ہم جو کہتے ہیں وہ قرآن اور سنت سے ہی کہتے ہیں : لَيْسَ شَيْ‏ء إِلَّا وَ قَدْ جَاءَ فِي الْكِتَابِ وَ جَاءَتْ فِيهِ السُّنَّةُ (اصول كافي ج : 1 ص : 59)

ہم نے جو بھی دین کا حکم بتایا ہے اس کے بارے میں ہم سے پوچھے ,ہم بتائیں گے کہ یہ قرآن و سنت میں کس جگہ ہے : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْ‏ءٍ فَاسْأَلُونِي مِنْ كِتَابِ اللَّهِ (اصول كافي ج : 1 ص : 59 -)

اامام صادق«ع» فرماتے تھے : مهما أجبتك فيه لشي‏ء فهو عن رسول الله لسنا نقول برأينا من شي‏ء (بصائرالدرجات ص 300)

از امام کاظم«ع» سے کسی نے سوال کیا کہ جو آپ لوگ بیان کرتے ہیں تو اس کو کیا اپنی طرف سے نقل کرتے ہیں ؟ امام نے جواب میں فرمایا :بَلْ كُلُّ شَيْ‏ءٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَ سُنَّةِ نَبِيِّهِ (اصول كافي ج : 1 ص : 62)

امام صادق (ع) سے حلال اور حرام کے بارے میں سوال ہوا تو امام نے فرمایا : حَلاَلُ مُحَمَّدٍ حَلاَلٌ أَبَداً إِلَى وَ حَرَامُهُ حَرَامٌ أَبَداً إِلَى لاَ يَكُونُ غَيْرُهُ وَ لاَ يَجِيءُ غَيْرُهُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امام واضح طور پر اعلان فرما رہے ہیں کہ کچھ ہے وہی ہے اس کے علاوہ نہیں ہے ۔۔۔ یعنی نہ کوئی نیا قانوں اور حلال و حرام نازل ہوگا اور نہ ان میں سے کوئی چیز کم ہوگی ۔۔

(اصول كافي, جلد۱ , كِتَابُ فَضْلِ اَلْعِلْمِ بَابُ اَلْبِدَعِ وَ اَلرَّأْيِ وَ اَلْمَقَايِيسِ ،صفحه۵۸ )

لہذا شیعہ اپنے ائمہ علیہم السلام کی پیروی میں اس چیز کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ دین قرآن و سنت کی صورت میں مکمل ہوچکا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ دین کو کامل کر کے گئے تھے ۔

شیعہ ائمہ اہل بیت (ع) کو اسی دین کے وارث ,محافظ ,مبین اور اسی دین کے حقیقی پیشوا مانتے ہیں....

اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آئمہ جو کچھ بیان فرماتے ہیں وہ اسی دین کی تعلیمات ہی ہے جس کو پیغمبر اسلام کامل کر کے گئے تھے....

آئمہ اہل بیت علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد دین کے پیشوا اور آنحضرت (ص) کے حقیقی جانشین ہیں اور یہ در حقیقت صاحب شریعت کی طرف سے دین کی حفاظت اور دین کو کامل شکل میں بعد کی نسلوں تک پہنچانے کا الہی انتظام اور ختم نبوت کے لئے مجوز ہے.

جیساکہ دین کامل شکل میں بعد کی نسلوں تک منتقل کرنے کا انتظام نہ ہو اور سابقہ ادیان کی طرح دینی تعلیمات تحریف کا شکار ہو اور دین اپنی اصلی شکل میں بعد کی نسلوں تک نہ پہنچے تو ختم نبوت اور ختم دین بے معنی ہوگا.

کیونکہ جب دین محفوظ نہ رہے اور دین بعد کی نسل تک ناقص صورت میں پہنچے تو نبوت کے سلسلے کا ختم ہونے کا مطلب بشر کے لئے ہدایت کا انتظام نہ ہونا اور بعد والوں کے لئے ہدایت کی ضرورت نہ ہونا ہے اور یہ صحیح نہیں ہے.

اسی لئے شیعہ کہتے ہیں کہ ائمہ اہل بیت (ع) اسی دین کے محافظ اور وارث ہیں، دین کو اصلی شکل میں اصلی سرچشمہ سے لیا ہے اور نسل در نسل دین کی حفاظت کی ہے اور دین کو بعد کی نسل تک پہنچانے کے لئے جتنا امکان تھا اسی حساب سے کوشش کی ہے اور جیساکہ شیعوں نے دین کو ائمہ اہل بیت ع کے واسطے سے لیا ہے.جبکہ دوسرے مذاھب والوں نے ان سے دین لینے کی کوشش نہیں کی ہے اور اس پر زندہ گواہ ان کی معتبر ترین کتابیں ہیں . ان کتابوں میں آٹے میں نمک کے برابر بھی ان سے دین لینے کی کوشش نہیں کی ہے..

مثلا صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں جنت کے جوانوں کے سردار امام حسن مجتبی (ع) سے ایک حدیث بھی نقل نہیں ہوئی ہے اور تقریبا بقیہ ائمہ اہل بیت (ع) کی نسبت سے بھی ان کتابوں کی یہی صورت حال ہے ۔

کیا شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں ؟

شیعہ کسی صورت میں ختم نبوت کے منکر نہیں ہیں شیعوں کے نذدیک ختم نبوت دین کے مسلمات میں سے ہے۔

لیکن بعض لوگ امامت کے بارے میں شیعہ نظریہ کی خود ساختہ اور غلط تفسیر کر کے شیعوں کو ختم نبوت کا منکر کہتے ہیں۔

مثلا کہتے ہیں شیعہ اپنے اماموں پر وحی نازل ہونے کے قائل ہیں، وحی نبی پر ہی نازل ہوتی ہے لہذا شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں..

اسی طرح شیعہ اپنے اماموں کو معصوم , واجب الاطاعۃ اور حجت مانتے ہیں ..

اور یہ ایسی صفات ہیں کہ جو انبیاء کے ساتھ مخصوص ہیں۔

اور کیونکہ شیعہ اپنے اماموں کو ان صفات کے مالک سمجھتے ہیں لہذا شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں...

مندجہ بالا مثالیں شیعوں کو ختم نبوت کے منکر کہنے کی اہم ترین مثالیں اور دلائل ہیں

...

مخالفین کے دلائل کا رد

اہل سنت کے بعض علماء کی طرف سے شیعہ نظریات کی خود ساختہ اور غلط تفسیریں شیعوں کو ختم نبوت کا منکر کہنے اور سمجھنے کا موجب اور سبب ہے. جبکہ ورنہ شیعہ نظریہ امامت کا لازمہ ختم نبوت کا انکار نہیں ہے.

جیساکہ ختم نبوت کا نظریہ شیعوں کے ہاں مسلمہ نظریہ ہے, اس کا انکار نبی (ص) کے انکار کی مانند ہے۔

لیکن اس کے باوجود بعض اپنی طرف سے شیعہ نظریہ امامت کی ترجمانی اور خود ساختہ تفسیر کے ذریعے شیعوں کو ختم نبوت کا منکر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں..


کیا وحی نبوت کا لازمہ ہے ؟

کہتے ہیں شیعہ اپنے اماموں پر وحی کے نازل ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں اور کیونکہ نبی پاک (ص) کے بعد وحی کا سلسلہ ختم ہوا ہے۔ لہذا کسی پر وحی نازل ہونے کا عقیدہ رکھنا ختم نبوت کے عقیدے کے خلاف ہے .

جواب : حقیقت پسندی سے کام لے تو مذکورہ اشکال شیعوں پر وارد نہیں ہے...

اولا : وحی کا ایک عمومی معنی ہے, اللہ نے شہد کی مکھی کی طرف بھی وحی کے نزول کی بات کی ہے...کسی نے اس وجہ سے شہد کی مکھی کو نبی نہیں کہا ہے۔

ثانیا : اصولی طور پر وحی تشریعی نبوت کے ساتھ مخصوص ہے یعنی ایسی وحی جس میں اللہ کے دین اور آئین کا کوئی حکم اور قانون بیان ہوا ہو۔

شیعہ کسی روایت میں ایسی وحی کے ائمہ (ع) پر نزول کی بات نہیں ہے , کسی شیعہ عالم نے ایسا نہیں کہا ہے کہ اللہ کا کوئی فرشتہ اللہ کا نیا قانون اور حکم لے کر کسی امام پر نازل ہوا ہو...

جیساکہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی ایسی بہت سی روایات موجود ہیں کہ جن میں ائمہ (ع) نے واضح طور پر یہ بیان فرمایا ہے کہ دین مکمل ہوچکا ہے ,دین مکمل طور پر قرآن و سنت کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے .ہم دین کا کوئی حکم بیان کرتے ہیں تو یہ سب قرآن و سنت سے ہی بتاتے ہیں۔

لہذا اللہ کا کوئی فرشتہ بعد از رسول (ص) اللہ کے دین کا کوئی نیا حکم لے کر نازل نہیں ہوگا کہ جو حکم, اللہ کے نبی (ص) پر نازل نہ ہوا ہو اور انہوں نے اس کو بیان نہ کیا ہو ۔

یہ بات درست ہے کہ آنحضرت (ص) کے بعد وحی تشریعی کا سلسلہ منقطع ہوا ہے ۔۔۔لیکن مطلق وحی یا فرشتوں کے ساتھ ہمکلام ہونے کا سلسلہ منطقع نہیں ہوا ہے ۔۔۔

ثالثا : مطلق طور پر اللہ کے کسی فرشتے سے ہمکلام ہونا اور کوئی خبر حاصل کرنے کو وحی کہہ کر اس کو ختم نبوت کے خلاف بات کے طور پر پیش کرنا صحیح نہیں ہے ۔

اللہ نے تو قرآن میں ثابت قدم مومنوں پر اللہ کے فرشتوں کے نزول کی بات کی ہے : إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ (فصلت : آیت ۳۰)

لہذا اللہ کے کسی فرشتے سے ہمکلام ہونا نہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔

جیساکہ اہل سنت کی معتبر روایات میں خلیفہ دوم کو محدث(دال تشدید اور زبر کے ساتھ)کہا ہے محدث کا معنی فرشتوں سے ہمکلام ہونےکے ہی ہے....

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رِجَالٌ يُكَلَّمُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَعُمَرُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ نَبِيٍّ وَلَا مُحَدَّثٍ (بخاری ،کتاب مناقب، مناقب عمر بن خطاب ۔۔۔)

شیعہ روایات میں ائمہ (ع) کا فرشتوں سے ہمکلام ہونے کو بیان کرنے والی روایات موجود ہیں جیساکہ امام حسین (ع)مکہ سے جب نکل رہے تھے تو فرشتوں کے ایک گروہ نے آپ کے ساتھ جاننے کے ارادے کا اظہار کیا..

لہذا مطلق طور پر یہ کہنا مغالطہ ہے کہ شیعہ روایات میں ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں فرشتوں سے ہمکلام ہونے باتیں نقل ہوئی ہیں لہذا شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔

کیا رسول اللہ (ص) خاتم المعصومنین تھے ؟

جیساکہ منطقی اعتبار سے نبوت اور عصمت میں عموم خوص مطلق کی نسبت ہے،تساوی کی نسبت نہیں ہے ،یعنی ہر نبی معصوم ہیں لیکن ہر معصوم کا نبی ہونا لازمی نہیں ہے۔

شیعہ مخالفین رسول اللہ (ص) کو ختم المعصومین کہتے ہیں جبکہ اپنے اس نظریے کو کسی آیت اور حدیث سے ثابت نہیں کرسکتے ۔ عصمت ، انبیاﺀ علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔

لہذا ائمہ اہل بیت علیہم السلام کو معصوم کہنے سے ختم نبوت کا انکار لازم نہیں آتا ۔ یہ اہل سنت کے علماﺀ کی خود ساختہ تفسیر ہے۔۔

یہی جواب :

ائمہ کو واجب الاطاعہ اور حجت سمجھنے کے سلسلے کے اعتراضات کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی لازمہ نبوت اور نبی ہونا نہیں ہے۔

جیساکہ اس سلسلے میں شبھات کا جواب اس مقالے میں تفصیل سے دیا ہے

کیا امام زمان (ع) کا حجت ہونا، قرآن کریم کی آیت « رسلا مبشرين و منذرين لئلا يكون للنّاس علي الله حجّة بعْد الرسلِ » کے خلاف نہیں ہے ؟www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php

خلاصہ : ختم نبوت ،شیعوں کے مسلمہ عقائد میں سے ہے ۔شیعوں کی طرف ختم نبوت کے انکار کی نسبت شیعہ مخالفین کی طرف سے شیعہ نظریات کی خود ساختہ تفسیر اور غلط ترجمانی کا نتیجہ ہے ۔۔۔

عجیب بات ہے : کہ شیعہ اہل سنت کے ساتھ جب امیر المومنین علیہ السلام کی جانشینی پر دلیل پیش کرتے ہیں اور ان سلسلے کی ایک اہم دلیل حدیث منزلت ہے جس میں رسول اللہ(ص) نے فرمایا : یا علی آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔۔۔۔۔۔

اہل سنت کے علما مذکورہ حدیث سے شیعوں کے استدلال کو باطل ثابت کرنے کے لئے سر توڑ کوشش کرتے ہیں لیکن پھر بھی شیعوں پر ختم نبوت کا الزام بھی لگائے جاتے ہیں۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی